اس پروپیگنڈے کے پیچھے بھارت کی کیا سازش کارفرما ہے ؟ پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل کی خصوصی تحریر

اس پروپیگنڈے کے پیچھے بھارت کی کیا سازش کارفرما ہے ؟ پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نقشے پر دیکھئے کارا باخ کا ایک چھوٹا سا حصہ آپ کو نظر آئے گا…… بس یہی حصہ مسئلےکی جڑ ہے!اس حصے کو علیحدگی پسندوں نے متنازعہ بنا کر یہاں اپنی حکومت قائم کی ہوئی ہے۔ گو اس کو اقوام متحدہ میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں اور اقوام متحدہ میں کارا باخ،

باقاعدہ آذربائیجان کا اٹوٹ انگ ہے لیکن ’زمین پر‘ اس کو ایک نیا نام دیا گیا ہے جو ”آرٹ ساخ“ کے نام سے موسوم ہے۔ پاک فوج کے سابق افسر اور نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔یہ ایک باغی ملک ہے جس کو آرمینیا میں آبادی اور رقبے کے حساب سے تین اور ایک کی نسبت ہے۔ آذربائیجان کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے جو 97% مسلمان ہے اور اس کا رقبہ 86000مربع کلومیٹر ہے جبکہ آرمینیا کی آبادی 29لاکھ افراد پر مشتمل ہے جس میں 97%آبادی عیسائیوں کی ہے اور اس کا رقبہ 29000مربع کلومیٹر ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس خطے کو پاک و ہند خطے کے مماثل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یار لوگوں نے شائد اسی وجہ سے آذربائیجان ’پہنچ کر‘ پاکستان کے جھنڈے لہرا دیئے اور وہاں پاک فوج کو کاراباخ کی فوج پر لشکرکشی کرکے اس کو ’تہس نہس‘ کرنے کا سرٹیفکیٹ دے دیا…… اللہ اللہ خیر سلا!یہ ہم پاکستانیوں کی پرانی عادت ہے۔ اقبال نے قیام پاکستان سے 12برس پہلے کہہ دیا تھا:یہ درست ہے کہ ہماری ہمدردیاں آذربائیجان کے ساتھ ہیں اور آذری بھائی بھی دل و جان سے پاکستان کے ساتھ ہیں لیکن کوئی ایک پاکستانی سولجر بھی، آذربائیجان میں نہیں۔ یہ بھارتی پروپیگنڈا ہے کہ اس نے پاک فوج کو آذربائیجان میں بھیج کر نگورنو کارا باخ کے بالمقابل صف بند کر دیا ہے، لیکن دوسری طرف اپنے سوشل میڈیا کو بھی دیکھیں کہ اس نے باکو (آذری دارالحکومت) میں پاکستانی پرچموں کی بہار کا سماں باندھ دیا سے۔ خدا لگتی بات یہ ہے کہ میں نے کبھی سٹیپناکرٹ (Stepana Kert) کا نام نہ کہیں پڑھا، نہ کہیں سنا……

یہ شہر اس باغی اور علیحدگی پسندوں کے ’ملک‘ کا دارالحکومت ہے جس کو وہ ’آرٹ ساخ‘ کا نام دیتے ہیں جبکہ دنیا اس کو ناگورنا کارا باخ کے نام سے جانتی ہے اور اقوام متحدہ کی کتابوں میں یہ ’ملک‘ آذربائیجان کا حصہ ہے۔آرمینیا کی سرحد، ترکی سے ملحق ہے اور آذربائیجان کی روس سے۔ ایران اور ترکی دل و جان سے آذربھائیوں کے ساتھ ہیں۔ ترکی نے تو آذری شہروں اور ترکی شہروں کو یک جان دو قالب قرار دے رکھا ہے۔ روس اگرچہ ترکی کا دوست ہے لیکن آرمینیا کا بھی دوست ہے اس لئے اس کا کہنا ہے کہ ان دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے……آذربائیجان اپنے اٹوٹ انگ کارا باخ پر قبضہ نہیں کر سکا۔ وجہ یہ ہے کہ کارا باخ کو آرمینیا کی مدد حاصل ہے اور آرمینیا کو نہ صرف روس بلکہ سارے مغربی یورپ (اور امریکہ) کی مدد بھی حاصل ہے۔ اگر آرمینیا، ایشیاء میں نہ ہوتا تو ایک عرصے سے NATO کا حصہ ہوتا!AFP نے اپنی ایک تازہ خبر میں فرمایا ہے کہ آذربائیجان، سٹیپناکرٹ پر دھاوے بول رہا ہے آرمینیا ایک زمین بند (Landlocked) ملک ہے جبکہ آذربائیجان بحیرہ کیسپئن (Caspian) کے ساحلوں کو سرحد بناتا ہے اور باکو، بحیرۂ کیسپئن پر واقع ایک بندرگاہی شہر (Port City) ہے۔ ایجنسی فرانس پریس (AFP) کے مطابق اس ”دس روزہ لڑائی “ میں تقریباً 100لوگ جان سے جاچکے ہیں ان میں اکثریت آرمینیا کے فوجیوں اور سویلین کی ہے…… نہ صرف یورپ اور روس چاہتے ہیں کہ اس خطے میں لڑائی چھڑ جائے بلکہ ترکی اور ایران بھی گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ

تنازعہ طول کھینچے، ایک چھوٹے پیمانے کی وار کی شکل اختیار کرے تاکہ مغرب نے ایران پر جو پابندیاں لگا دی ہیں اور ترکی پر بھی جو جزوی پابندیوں کا ہتھوڑا تانا ہوا ہے اس کو ہٹایا جا سکے اور بین الاقوامی ہتھیاروں کی تجارت کی راہ ہموار ہو…… مشرق وسطیٰ کی لڑائی بندی کو دو برس ہو چلے ہیں۔ افغانستان سے بھی اس سال کے اواخر میں شائد امریکی ٹروپس واپس چلے جائیں اور یوں دنیا میں کہیں بھی چھوٹی بڑی جھڑپ وغیرہ ختم ہو جائے۔ اسی لئے شایدہتھیاروں کے سوداگروں نے آذربائیجان اور آرمینیا کے اس خطے میں ’چھیڑ چھاڑ‘ شروع کرکے باکو کے تیل اور آذربائیجان کی قیمتی معدنیات پر نظریں گاڑ رکھی ہیں۔پاکستان کو اس خطے میں کودنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پاکستان اور ہندوستان دو جوہری قوتیں ہیں۔ ان کا اپنا مقام ہے جبکہ آذربائیجان اور آرمینیا عسکری اعتبار سے دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے ممالک شمار ہوتے ہیں۔ کاراباخ میں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ جس طرح آذربائیجان میں مساجد لاتعداد ہیں اسی طرح آرمینیا میں بھی کلیساؤں اور گرجا گھروں کی بھرمار ہے۔ یہ خطہ جغرافیائی اعتبار سے یورپ سے بالکل مختلف ہے اور افغانستان کی کوہستانی سرزمین سے بھی زیادہ دشوارگزارگھاٹیوں، وادیوں، صحراؤں، جنگلوں اور پہاڑی ندی نالوں پر مشتمل ہے۔ NATO کی فورسز اگر مستقبل قریب میں یہاں آئیں بھی تو ان کی ائر فورسز کے لئے پہلے افغانستان کی طرح کابل و قندھار کے ہوائی مستقر تعمیر کرنے پڑیں گے…… اور یہ کام اتنا آسان نہیں۔ اگر افغانستان سے ناٹو فورسز کا بوریا بستر جلد گول ہو گیا تھا تو آرمینیا سے یہ بوریا بستر اور بھی جلد گول کرنا پڑے گا!…… لیکن یہ تمام باتیں مستقبل کے وہ اندازے ہیں جن کو حقیقت میں ڈھلنے کے لئے کسی بڑے حادثے کی ضرورت ہوگی۔ نوگورنو کارا باخ ایسے حادثے کے لئے تیار نہیں …… اور تو اور بیشتر قارئین کو یہ بھی معلوم نہیں کہ آرمینیا کا دارالحکومت ”ژیری وان“ (Yerevan) ہے!…… کارا باخ کی طرح ژیری وان بھی ہمارے لئے بہت نامانوس اور اجنبی سرزمین ہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں