نواز شریف اور دیگر (ن) لیگی رہنماؤں پر بغاوت کے مقدمے کو سپورٹ کریں یا نہیں ۔۔۔ ؟ حکمران جماعت کے اندر اختلاف ۔۔۔ 2 بڑے رہنماؤں نے مخالفت کردی

نواز شریف اور دیگر (ن) لیگی رہنماؤں پر بغاوت کے مقدمے کو سپورٹ کریں یا نہیں ۔۔۔ ؟ حکمران جماعت کے اندر اختلاف ۔۔۔ 2 بڑے رہنماؤں نے مخالفت کردی

اسلام آ باد (ویب ڈیسک) ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت لیگی رہنمائوں کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا اہم معاملہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم کے سامنے اٹھایا گیا اور اس پر بحث کی گئی۔ وزیراعظم نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ

حکومت سیاسی انتقام کی حامی ہے نہ ہی ن لیگی رہنماؤں کیخلاف بغاوت کی ایف آئی آر سے کوئی تعلق ہے۔ذرائع کے مطابق دوران اجلاس وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ جب مجھے مقدمے کا علم ہوا، اس وقت میں سالگرہ کا کیک کاٹ رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق کابینہ ارکان نےایف آئی آر معاملے میں مداخلت نہ کرنے کی تجویز دی تاہم شیریں مزاری اور فواد چوہدری سمیت کئی وزرا نے مقدمے پر مختلف رائے دی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو کہا ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر کلبھوشن یادیو سے متعلق عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ بھارت اور کلبھوشن وکیل نہیں کرتے تو کیس کیسے آگے بڑھائیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ پر عمل درآمد سے متعلق قانونی نکات پر معاونت طلب کرلی۔سماعت سے قبل 2 سینئر وکلا مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے عدالتی معاونت سے معذرت کرلی۔ عابد حسن منٹو نے خراب صحت جب کہ مخدوم علی خان نے پروفیشنل وجوہات کی بنیاد پر پیش ہونے سے معذرت کرلی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کیلئے وزارت قانون کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ وزارت خارجہ نے 4 ستمبر کو بھارتی وزارت خارجہ کو عدالتی حکم کے حوالے سے آگاہ کیا، 7 ستمبر کو بھارتی حکومت نے پاکستانی وزارت خارجہ کا جواب دیا، بھارت نے ایک بار پھر عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بھارت جان بوجھ کر کلبھوشن یادیو کیس سے بھاگ رہا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کو کلبھوشن کے مستقبل سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ سیاسی طور پر معاملے کو دیکھنا چاہتا ہے۔آئینی طور پر ہماری ذمہ داری ہے کہ فئیر ٹرائل کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں،میری استدعا ہے کہ کارروائی آگے بڑھانے کیلئے عدالت کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں