بریکنگ نیوز۔۔ عمران حکومت گرانے کے خواب چکنا چور ۔۔۔ اپوزیشن کے استعفوں کا معاملہ کھٹائی میں ۔۔۔۔عمران اینڈ کمپنی کو بڑی خوشخبری سنا دی گئی

بریکنگ نیوز۔۔ عمران حکومت گرانے کے خواب چکنا چور ۔۔۔ اپوزیشن کے استعفوں کا معاملہ کھٹائی میں ۔۔۔۔عمران اینڈ کمپنی کو بڑی خوشخبری سنا دی گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)مسلم لیگ نون ایک بار بھر تذبذب کا شکار ہو گئی۔ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے اسمبلی اراکین کی طرف سے استعفوں کے حوالے سے مسلم لیگ ن تاحال کنفیوژن کا شکار ہے ۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو

کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے رہنما سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے ارکان مستعفی نہ ہوئے تو وہ ان کا فیصلہ ہے ، کسی بھی جماعت کو مجبور نہیں کرسکتے ، ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ہمارے دور حکومت میں استعفوں کا اعلان کیا گیا تو بہت سارے اراکین مستعفی نہیں ہونا چاہتے تھے۔ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ اگر ہماری پارٹی قیادت نے فیصلہ کیا تو ہمارے 99 فیصد ارکان اسمبلی استعفیٰ دے دیں گے ، تاہم ہوسکتا ہے کچھ غیرنظریاتی لوگ مستعفی نہ ہوں ، جب کہ اگر پیپلزپارٹی نے اس موقع پر مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کیا تو وہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا ۔دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ تحریک کے عروج پر ن لیگ کے84 ایم این ایز استعفیٰ دے دیں گے، ہمارا کوئی جھگڑا نہیں بس ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے، نوازشریف کی آئینی جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار نہ کیا، تو ملک انارکی پھیل سکتی ہے ، وہ پارٹی کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان کی مشکلات کو حل کرنے، ترقی اور سیاسی جمہوری پرامن جدوجہد کا راستہ ہے، سیاسی جمہوری پرامن جدوجہد کا حق ہمیں ملک کا آئین دیتا ہے، کہ اپنے حقوق اور ملک کیلئے آئینی جدوجہد کرسکتے ہیں ، نوازشریف نے پر تقریر میں ہر پہلو کو کور کیا، اور ہمیں پالیسی بیان دیا ، آج سے 22سال پہلے 1998ء میں جب پاکستان اتنا طاقتور تھا کہ جب ہندوستان نے 5 ایٹمی بلاسٹ کیے، تو ان کے وزیرخارجہ کے کہا پاکستان کو بھی ایٹمی قوت سے بات کرنے کا طریقہ سلیقہ سیکھ لینا چاہیے ، اس وقت امریکا نے پاکستان کو کہا جتنے ڈالر چاہئیں لے لو لیکن ایٹمی دھماکے نہ کرنا، لیکن اس وقت کے وزیر اعظم نے ہندوستان کے پانچ ایٹمی بلاسٹ کے مقابلے میں6 ایٹمی تجربے کیے ،کیا اس وقت کوئی لوڈشیڈنگ تھی؟ کیا سوسائڈ اٹیک ہوتے تھے؟ پوری دنیا کے اخبار لکھ رہے تھے کہ پاکستان ایشیاء کا ٹائیگر بننے جا رہا ہے، اس کے بعد 12اکتوبر آگیا ، 2013ء میں جب پھر دوبارہ دنیا کے اخبار لکھ رہے تھے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے جارہا ہے، 20, 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ تھی، لیکن قوم نے جب مسلم لیگ ن کو مینڈیٹ دیا، اور نوازشریف نے بجلی لوڈشیڈنگ کو ختم کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں