ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم سے فرارـــ۔۔۔۔امریکیوں سمیت پوری دنیا دنگ رہ گئی

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم سے فرارـــ۔۔۔۔امریکیوں سمیت پوری دنیا دنگ رہ گئی

لاہور(ویب ڈیسک) امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات اس وقت دنیا بھر کے میڈیااور عوام کا مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں۔کورونا وبا کے دنوں میں جہاں بہت ساری پابندیاں اور سوشل ڈسٹنسنگ کا چلن عام ہے ایسے ماحول میں امریکی انتخابات ہونا کسی دلچسپی سے کم نہیں۔ امریکہ بھر کی ریاستوں

میں صدارتی انتخابات کی مہم زوروں پر ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں جوبائیڈن میدان میں اترے ہوئے ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کواچھا خاصا ٹف ٹائم دے رکھا ہے۔اگر اس بار بھی ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ امریکی سیاست کی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کر دیں گے۔تاہم انتخابی مہم کے دوران جیسا کہ امریکی سیاست کا اصول ہے دونوں حریف عوام کے سامنے آ کر ایک ہال میں تقریر کرتے ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرتے اور عوام کے سوالوں کا جواب بھی دیتے ہیں۔اس برس بھی اس مہم کا پہلا مکالمہ گزشتہ روز ہوا تھا جہاں جوبائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دوسرے کو خوب رگیدا۔جبکہ اس پہلے مکالمے کے بعد دو اور مکالمے ہونا باقی تھے جن میں انہوں نے عوام کے مزید تلخ سوالوں کا جواب دینااور ایک دوسرے کی پالیسیوں کو ہدف بنانا تھا۔مگر دوسرے مکالمے سے قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے وہاں سے دوڑ لگا دی اور کہا کہ میں اس طرح اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتااور اپنے حریف کے سات مزید کوئی مکالمہ نہیں کروں گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ہر طرف سے تنقید کے نشتر برسائے جا رہے ہیں ۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس روایتی سیاست کے اصول کو توڑنے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکشن پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔کیونکہ ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ اس طرح سے انتخابی مکالمے سے انکار ڈونڈ ٹرمپ کے سیاسی کیرئرپر اثر انداز ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کو ہونے والے کورونا کے حوالے سے بھی لوگ شک و شبہ کا اظہار کر رہے ہیں۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے علاج کیلئے کورونا کی دوا خود تجویز کرنےکا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ دوا تمام امریکیوں کے لیے مفت دستیاب ہو۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب وہ کورونا کے باعث ہسپتال میں داخل تھے تو ڈاکٹروں نے مختلف دوائیں تجویز کیں جن میں ری جینرون کی “REGN-COV2” آزمائشی دوا بھی شامل تھی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ خدا کا کرم ہے کہ مجھے کورونا ہوا اور میں نے یہ دوا لی، میں نے اس دوا سے متعلق سنا تھا، میں نے کہا کہ مجھے یہ دوا لینے دیں، یہ میری تجویز تھی اور اس دوا سے مجھے بہت جلد فائدہ ہوا اور میں نے بہتری محسوس کی، میں کہتا ہوں یہی کورونا کا علاج ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ دوا تمام امریکیوں کے لیے مفت میں دستیاب ہو،خاص طوپر وہ بزرگ شہری جو کورونا کے باعث ہسپتال میں داخل ہیں۔ٹرمپ کے اس بیان کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں یہ دوا بنانے والی دواساز کمپنی ری جینرون اور ایلی لِلی کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے جب کہ دونوں کمپنیاں پہلے ہی امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اتھارٹی (ایف ڈی اے) سے درخواست کرچکی ہیں کہ ہنگامی بنیادوں پر اس دوا کے استعمال کی اجازت دی جائے۔دوسری جانب ماہرین نے ٹرمپ کے بلا کسی ثبوت کے دعویٰ کرنے پر مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی چال قرار دیا ہے تاکہ الیکشن سے قبل کورونا کی دوا لانےکا وعدہ پورا کرکے ووٹرز کا دل جیتا جاسکے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہےکہ اس بات کا ابھی کوئی ثبوت نہیں کہ امریکی صدر کو اسی دوا سے فائدہ ہوا ہے کیونکہ انہیں دیگر دوائیں بھی دی گئی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں