کیا سعودی عرب اور اسرائیل کا معاہدہ جلد ہونے والا ہے ؟ مشہور زمانہ برطانوی صحافی فرینک گارڈنر نے دنیا کو بڑی بریکنگ نیوز دے دی

کیا سعودی عرب اور اسرائیل کا معاہدہ جلد ہونے والا ہے ؟ مشہور زمانہ برطانوی صحافی فرینک گارڈنر نے دنیا کو بڑی بریکنگ نیوز دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) کیا وہ ایسا کریں گے یا نہیں؟ یہی سوال مشرقِ وسطیٰ میں بہت سے لوگوں کے ذہن میں ہے۔کیا سعودی عرب کے حکمران جو ماضی میں اسرائیل اور اُن کے فلسطینیوں کے ساتھ رویے کے ناقد رہے ہیں اور عرب میڈیا جس ملک کو صیہونی ریاست کہتا رہا ہے،

کیا سعودی عرب اس ملک کے ساتھ نارمل سفارتی تعلقات کی جانب بڑھ رہا ہے؟نامور صحافی فرینک گارڈنر بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس سوال اور سوشل میڈیا پر حال ہی میں ہونے والی بحث کے پیچھے سابق سعودی انٹیلیجنس چیف اور کئی برسوں تک واشنگٹن میں سعودی سفیر شہزادہ سلطان بن بیندر کا ایک حالیہ انٹرویو ہے جس میں انھوں نے خلیجی عرب ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ امن کی کوششوں پر فلسطینی رہنماؤں کی تنقید پر اظہارِ برہمی کیا۔العریبیہ کو تین حصوں میں دیے گئے اس تفصیلی انٹرویو میں شہزادہ بندر کہتے ہیں ‘اس ذیلی سطح کی بات چیت کی توقع ہمیں ایسے حکام سے نہیں جو کہ اپنے مقصد کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ان کی (فلسطینیوں کی) خلیجی ممالک کی قیادت پر اس قدر برے انداز میں تنقید بالکل قابلِ قبول نہیں۔‘فلسطینی قیادت کی جانب سے بحرین اور متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کو دھوکہ دہی سے تشبیہ دی گئی تھی۔شہزادہ بیندر جو 22 سال تک امریکہ میں سعودی سفیر رہے اور جو امریکی صدر جارج بش کے اتنے قریب تھے کہ انھیں بیندر بن بش بھی کہا جاتا تھا، انھوں نے اس انٹرویو میں فلسطینی قیادت کی تاریخی ناکامیوں کو ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی سمجھتے ہیں انھیں ہر حال میں سعودی حمایت حاصل ہے۔شہزادہ بیندر 22 سال تک امریکہ میں سعودی سفیر رہے اور وہ امریکی صدر جارج بش کے اتنے قریب تھے کہ انھیں بیندر بن بش بھی کہا جاتا تھا

اگرچہ انھوں نے فلسطینی مقاصد کو جائز قرار دیا تاہم انھوں نے اتنے برسوں میں بھی امن معاہدہ نہ کرنے کے لیے اسرائیلی اور فلسطینی دونوں قیادتوں پر برابر الزام عائد کیا۔انھوں نے کہا کہ جب فلسطینی قیادت آپس میں بھی اتفاق سے نہیں رہ سکتی تو وہ امن معائدہ کیا کریں گے۔ ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ فلسطینی اتھارٹی غربِ اردن میں اقتدار میں ہے جبکہ فلسطینی اسلامی موومنٹ حماس غزہ میں برسرِاقتدار ہے۔سعودی شاہی خاندان کے قریبی ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ایسے الفاظ سعودی عرب کے ریاستی ٹی وی پر سعودی بادشاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی منظوری کے بغیر نشر نہیں ہو سکتے تھے۔اہلکار کا کہنا تھا کہ ان الفاظ کو شہزادہ بیندر سے کہلوانا، جو کہ ایک تجربہ کار سفارتکار ہیں اور سعودی اسٹیبلشمنٹ کے ستون مانے جاتے ہیں، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ سعودی شاہی خاندان اپنے عوام کو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے لیے ذہنی طور پر تیار کر رہی ہو۔شہزادہ بیندر کے الفاظ سننے کے بعد اور خاموشی سے بحرین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کی تائید کر کے لگتا تو ایسا ہی ہے کہ سعودی قیادت اپنی آبادی کے مقابلے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں زیادہ تیزی دکھا رہی ہے۔کئی برسوں سے سعودی عرب کے مختلف کونوں میں خصوصاً دیہی علاقوں میں لوگوں کو یہ عادت ڈالی گئی ہے کہ صرف اسرائیل کو دشمن نہ سمجھا جائے بلکہ تمام یہودیوں کو برا سمجھا جائے۔

مجھے یاد ہے کہ عسیر صوبے کے پہاڑی گاؤں میں ایک سعودی بالکل سنجیدہ انداز میں مجھے بتا رہا تھا کہ ’سال میں ایک دن یہودی بچوں کا خون پیتے ہیں۔‘مگر انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ ٹی وی کی وجہ سے ریاست میں اب اس طرح کے خیالات کم پائے جاتے ہیں۔ سعودی عوام انٹرنیٹ پر بہت وقت گزارتی ہے اور اکثر اوقات وہ عالمی معاملات کے بارے میں مغربی شہریوں سے کہیں زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔مگر سعودی آبادی میں غیر ملکیوں پر شکوک اور نسل پرستی کی روایات کو تبدیل کرنے میں وقت لگے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے خلیجی ہمسایوں کی طرح سعودی حکومت فوراً اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے کو تیار نہیں ہوئی۔فلسطینیوں کے ساتھ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات کی تاریخ میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی حکومتوں نے فلسطینی مقاصد کی سیاسی اور مالی امداد کی ہے۔لیکن جب 1990 میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے کویت پر اٹیک اور قبضے کے سلسلے میں عراقی صدر صدام حسین کا ساتھ دیا تو انھیں دھوکے کا احساس ہوا۔1991 میں جب امریکی قیادت میں کویت کو آزاد کروایا گیا تو وہاں سے فلسطینیوں کو نکال دیا گیا اور ہزاروں مصریوں نے ان کی جگہ لے لی۔اُس برس جب میں کویت گیا تو میں نے ایک بند پڑے ریستوران کی دیوار پر کچھ گرفیٹی دیکھیں تھیں۔ ‘یروشلم یہودیوں کا ابدی گھر ہے اور میں ایک کویتی یہ لکھ رہا ہوں۔‘خطے کے پرانے رہنماؤں کو یاسر عرافات کے ‘دھوکے‘ سے آگے بڑھنے میں کئی سال لگ گئے۔

اور ستم ظریقی یہ ہے کہ عرب دنیا میں دراڑیں ختم کرنے میں جن کا کردار بہت سے دوسرے لوگوں سے زیادہ تھا وہ خود کویت کے امیر شیخ صبح الاحمد الصبح تھے جو گذشتہ ماہ 91 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔سعودی عرب ماضی میں بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کر چکا ہے۔مارچ 2002 میں، میں بیروت میں ایک عرب اعلیٰ سطحی اجلاس میں شریک تھا جب پسِ پردہ ایک شخص انتہائی نفیس انگریزی میں ولی عہد عبد اللہ کے امن منصوبے کے متعلق باری باری سب کو بتا رہا تھا۔وہ شخص عادل الجبیر تھے جو اس وقت کے ولی عہد کے مشیر برائے خارجہ امور تھے۔ آج وہ سعودی وزیر خارجہ ہیں۔ اس امن منصوبے نے اجلاس میں مرکزی حیثیت حاصل کر لی اور اسے عرب لیگ نے بھی منظور کیا۔بنیادی طور پر اس پلان میں اسرائیل اور تمام عرب ممالک کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کے بدلے اسرائیل کا تمام مقبوضہ علاقوں، غربِ اردن، غزہ پٹی، گولان پہاڑیوں اور لبنان سے پیچھے ہٹنا تھا، مشرقی یروشلم کو فلسطینی دارالحکومت بننا تھا اور ان فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ‘منصفانہ حل‘ تلاش کرنا تھا جو 1948-1949 کی لڑائی کے بعد ان علاقوں میں گھر بار چھوڑ کر بھاگے جو بعد میں اسرائیل بن گئے۔اس منصوبے کو بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل ہوئی اور اس سے سب نظریں اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون پر آ گئیں۔تو اسرائیلی حکام مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو کیسے دیکھتے ہیں؟ انھوں نے شہزادہ بیندر کا انٹرویو بھی دیکھا ہے مگر اب تک اس پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا۔بلکہ لندن میں اسرائیلی سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا ہے ’ہم امید کرتے ہیں کہ اب اور زیادہ ممالک مشرق وسطیٰ کی نئی حقیقت تسلیم کریں گے اور ہمارے ساتھ امن کی جانب بڑھیں گے۔‘روایتی طور پر سعودی عرب کسی بھی پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے سست روی سے کام لیتا ہے اور ہر صوررتحال کا پہلے جائزہ لیتا ہے۔مگر ولی عہد محمد بن سلمان نے یہ سب بدل دیا ہے۔ عورتیں گاڑی چلا سکتی ہیں، عوام کو انٹرٹینمنٹ تک رسائی حاصل ہے اور ملک میں سیاحت کی اجازت دی جا رہی ہے۔اسی لیے جہاں مستقبل قریب میں سعودی اسرائیلی امن معاہدہے کے آثار نہیں مگر اب اس کا ایک حقیقی امکان ضرور موجود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں