بریکنگ نیوز: پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر ، اگر جلد یہ کام نہ کیا گیا تو پھر نتائج کے آپ خود ذمہ دار ہونگے ۔۔۔۔ پاکستانی ماہرین کی تشویشناک وارننگ

بریکنگ نیوز: پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر ، اگر جلد یہ کام نہ کیا گیا تو پھر نتائج کے آپ خود ذمہ دار ہونگے ۔۔۔۔ پاکستانی ماہرین کی تشویشناک وارننگ

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان میں کرونا وبا کی دوسی لہر پھیل چکی ہے جس کے باعث کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔اس سلسلے میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کورونا کی دوسری لہر کے لیے تیار نہیں ہے۔لاہور میں پی ایم اے کے دیگر عہدیدران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے

ہوئے صدر پی ایم اے ڈاکٹر اشرف نظامی نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو جلسوں جلوسوں کا سلسلہ روکنا پڑے گا،حکومت کو اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک پہلے کرونا وبا کے اثرات سے خود کو نکال نہیں پایا۔ابھی بھی ملک کے کئی علاقے کرونا وبا کے باعث سیل کئے ہوئے ہیں ،حکومت کی غیر سنجیدگی دوسری لہر میں زیادہ نقصان کرا سکتی ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم نے ہمیشہ حکومت کی توجہ خلق خدا کے لیے قبل ازوقت دلوانے کی کوشش کی ہے، ہم اپنا کام پوری ایمانداری کے ساتھ کرتے ہیں ، جب کورونا کا ذکر بھی پاکستان میں نہیں تھا تو ہم نے فروری میں ایک تھریٹ الرٹ جاری کیا۔اپنی بات جاری رکھتے ہونے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بتایا کہ کورونا پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اسے معمولی نا سمجھیں اور اس پر پوری توجہ دیں مگر ہماری توجہ دلانے کے باوجود جب تک سر پر آن نہیں پڑی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ اگر اس وقت اس بات پر توجہ دی گئی ہوتی تو پاکستان کرونا وبا سے محفوظ رہتا یا ملک میں اموات کی شرح اب کی نسبت کم ہوتی۔ ایک اورخبر کے مطابق سائنس دان ویکسین کو ’انہیلر‘ کی شکل میں بھی لانے پر غور کر رہے ہیں جو زیادہ موثر ثابت ہوسکتی ہے۔برمنگھم کی الاباما یونیورسٹی کے امیونولوجسٹ اور بائیوٹیک الٹیمیون کے ساتھ ویکسین پر کام کرنے والے فرانسس لُند اور واشنگٹن یونیورسٹی کے انفیکشن ڈیزیز کے ماہر مائیکل ڈائمنڈ نے یہ سوچا ہے کہ ویکسین کو بازو کے بجائے منہ اور ناک کے ذریعے انہیل کرنے کے حامی ہے۔ڈائمنڈ مائیکل کا دعویٰ ہے کہ اگست میں کی گئی چوہوں پر تحقیق سے یہ نتائج سامنے آئے ہیں کہ کورونا ویکسین کو منہ اور ناک کے ذریعے دیا جائے تو وہ زیادہ موثر ہوتی ہے کیوں کہ کورونا وائرس منہ اور ناک میں ہی جائے پناہ ڈھونڈتا ہے۔ اس سے وائرس کے جسم میں پھیلائوکو روکا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں