ٌٌٍلفٹ

ٌٌٍلفٹ

دوستو آج ہم آپ کو ایک بہت ہی زبردست تحریر لے کر آئے ہیں امید ہے۔ کہ آپ کو ضرور پسند آئے گیمیں بیگ ہاتھ میں پکڑے بس کا انتظار کر رہا تھا۔ کہ ایک گرے رنگ کی کار میرے قریب آ کر رکی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ایک نوجوان سی ماڈرن لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے چشمہ اتارتے ہوئے مجھ سے پوچھا لفٹ چاہئے، کہاں جاو گے۔

میں نے کہا مس، میں نے تو اقبال ٹاؤن جانا ہے۔ کہنے لگی مناسب سمجھو تو بیٹھ جاو، میں بھی ادھر ہی جا رہی ہوں۔ میں بیگ رکھنے کیلئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولنے لگا تو بولی۔”بیگ پیچھے ڈگی میں رکھ دو اور آپ فرنٹ سیٹ پر آ جاو”۔ میں نے خوش ہوتے ہوئے بیگ ڈگی میں رکھا اور ڈگی بند کر کے فرنٹ ڈور کی طرف بڑھا ہی تھا۔ کہ موصوفہ نے گاڑی بھگا دی۔ میں دن دیہاڑے لٹ چکا تھا۔ اب شور بھی کیا مچاتا، اپنی مرضی اور رضا مندی سے ہی اپنا بیگ اسکی گاڑی میں رکھا تھا۔ میرا دل اچانک ہی بیٹھنے لگا اور میں نڈھال قدموں کے ساتھ گھر واپس چلا آیا۔ مجھے دیکھتے ہی امی نے کہا اتنی جلدی واپس بھی آ گئے ہو۔ تمہیں کہا بھی تھا کہ اقبال ٹاؤن تک لازمی جانا، نہیں تو مصیبت واپس آ جائے گی۔ میں نے پر سکون لہجے میں کہا امی آپ فکر نہ کریں، ایک دوست ادھر ہی جا رہا تھا، میں نے بیگ اسکی گاڑی میں رکھ دیا ہے، اب تک آپکی مانو بلی اقبال ٹاؤن پہنچ بھی چکی ہو گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آج ہماری یہ تحریر آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی۔ مزید اچھی تحریروں کے لئے ہمارے پیج کو فالو اور لائک کریں اور اپنی قیمتی رائے کے بارے میں کمنٹ میں ضرور آگاہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں