کوئی اجلاس اسکے بغیر نہیں ہو گا ۔۔۔!!! آج کل کون وزیراعظم عمران خان کی آنکھوں کا تارا ہے جسکے بارے میں یہ خاص حکم جاری کردیا ؟ رؤف کلاسرا کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب ایک انہونی ہوئی ہے۔ پچھلے ہفتے وزیراعظم عمران خان کے حکم پر نج کاری کمیشن کا ایک خصوصی اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس میں ون پوائنٹ ایجنڈا تھا کہ نیویارک میں پی آئی اے کے ہوٹل روزویلٹ کی نج کاری

کے معاملے کو دیکھا جائے۔ اس معاملے پر خاصا تنازعہ چل رہاتھا۔ یہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب وزیراعظم کے قریبی دوست زلفی بخاری کو نج کاری کے اجلاس میں روزویلٹ ہوٹل کی نج کاری کیلئے ایک ٹاسک فورس بنا کر اس کا ممبر بنایا گیا۔ زلفی بخاری نے اس ٹاسک فورس کے نوٹیفکیشن میں یہ بھی لکھوایا کہ زلفی کی شمولیت کے بغیر کوئی اجلاس نہیں ہوگا؛ تاہم اس اجلاس میں موجود سیکرٹری ایوی ایشن شاہ رخ نصرت نے سخت احتجاج کیا اور ان کا ساتھ ان کے وزیر غلام سرور خان نے بھی دیا۔ ان کا کہنا تھاکہ محکمہ ہوا بازی پی آئی اے کو کنٹرول کرتا ہے لیکن نیویارک ہوٹل کو بیچنے کیلئے یہ سمری پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو ارشد ملک نے براہ راست نج کاری کے اجلاس میں پیش کی ہے۔ یاد رہے کہ چودہ نومبر 2019 کو اجلاس سے ایک دن پہلے یہ سمری ایجنڈے کا حصہ بنائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر قانونی کام تھا۔ اگر ہوٹل بیچنا بھی تھا تو اس کا طریقہ کار ہے کہ پی آئی اے پہلے سمری بناکر محکمہ ہوابازی کو بھیجتی اور پھر سمری پر کمنٹس لے کر نج کاری کمیشن میں جاتے۔ اب اس پر جب شاہ رخ نصرت نے سٹینڈ لیا تو انہیں راتوں رات سیکرٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جس سے لوگوں کے کان کھڑے ہوئے کہ زلفی بخاری کا نیویارک ہوٹل کی فروخت میں اچانک دلچسپی دکھانا اور پھر ٹاسک فورس کا ممبر بن جانا اور پھر یہ لکھوا دینا کے ان کی شمولیت کے بغیر کوئی اجلا س نہیں ہوگا

اور اب اچانک سیکرٹری شاہ رخ جس نے اس سارے عمل پر اعتراضات اٹھائے تھے اسے تبادلہ کر دینا، کوئی نیا چکر ہے۔ اس پر غلام سرور خان نے کابینہ اجلا س میں بھی سوال اٹھایا‘ لیکن کسی وزیر نے ساتھ نہ دیا کیونکہ معاملہ و زیراعظم کے قریبی دوست کا ہے۔ جب ارشد شریف نے ایک انٹرویو میں پوچھا تھا کہ آپ کے دوست زلفی کا کاروبار کیا ہے؟ تو عمران خان نے جواب دیا تھا‘ انہیں پتہ نہیں زلفی کیا کاروبار کیا کرتا ہے۔ اب وہ بندہ جس کے کاروبار کا پتہ ان کے ذاتی دوست عمران خان کو بھی نہیں ہے‘ وہ نیویارک ہوٹل بیچنے کی ٹاسک فورس کی ذمہ داری سنبھال لیتا ہے اور جو اس پر اعتراض کرے اس کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے۔ ہر طرف سے اعتراضات بڑھنے لگے تو عمران خان نے حفیظ شیخ کو کہا کہ وہ نیویارک ہوٹل پر اجلاس بلائیں جس میں انہوں نے اہم وزیروں کو ممبر بنا دیا۔ اسد عمر، غلام سرور خان، رزاق دائو، حماد اظہر، عشرت حسین سب موجود تھے؛ تاہم مراد سعید بھی اس کمیٹی کے ممبر تھے لیکن وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ مراد سعید اس اہم اجلاس میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ اگر نیویارک کا ہوٹل بیچ کر یا لیز پر دے کر کوئی غلط کام نہیں ہو رہا تو پھر اس کمیٹی کا اہم وزیر مراد سعید اس اجلاس سے غائب کیوں ہے؟ مراد سعید ہر ایشو اور سکینڈل پر بات کرتے آئے ہیں اور انہوں نے نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کا ناک میں دم کیا ہوا ہے‘ لیکن کیا ہوا کہ وہ اس اجلاس میں نہیں آئے؟ کیا مراد سعید اس لیے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے کہ اس میں سب کچھ ریکارڈپر ہوگا کہ کن کن لوگوں نے ہوٹل کے حوالے سے کیا فیصلے کیے؟ اگر سب کچھ ٹھیک ہورہا ہے اور کوئی غلط نہیں ہورہا تو پھر مراد سعید کیوں گھبرا گئے ہیں؟ جو بندہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مسلسل سات سال تابڑتوڑ حملوں سے نہ ڈرا وہ زلفی بخاری کی روزویلٹ ہوٹل بیچنے یا لیز کے لیے بنائی گئی صرف ایک ٹاسک فورس سے گھبرا گیا ہے؟(ش س م)

اپنا تبصرہ بھیجیں