شیخ رشید بھی عمران خان کو مائنس کرنے کی کوششوں میں مصروف : خان صاحب پھر نہ کہنا بتایا نہیں تھا ؟ وزیراعلیٰ پنجاب کے سابق مشیر کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور سابق مشیر وزیراعلیٰ عثمان بزدار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ان دنوں بھی بنے ہوئے ہیں۔ سیاست دان سازشوں میں مصروف ہیں اور عوام کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ انہی سازشوں میں ایک سیاہ اضافہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف ہونے والی کردار کشی کی مہم کا ہے۔

اس سازش کے محرکات کو جانچنے کی ضرورت ہے۔ کن افراد نے اس میں منفی کردار ادا کیا ہے اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت وزیر اعلیٰ پنجاب پر جال پھینکا گیا ہے۔اس واقعے کے چند پہلو نہایت اہم ہیں، یہ معمول کی مشق ہے، اہم حکومتی شخصیات کے انٹرویوز طے ہوتے ہیں، ملتوی ہوتے ہیں اور بعض اوقات منسوخ بھی ہوتے ہیں، کیا یہ اتنا اہم ہے کہ ایک انٹرویو کے ملتوی ہونے یا وقت تبدیل ہونے کو اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا جائے، کیا یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی اہم حکومتی شخصیت کو اچانک انٹرویو ملتوی کرنا پڑا ہو، جس کا انٹرویو کیا جا رہا ہو وہ کوئی تنخواہ دار ملازم تو نہیں کہ ہر حال میں پابند نہیں کہ تمام کام چھوڑ کر ہر حال میں اس وقت کے لیے زندگی کی تمام مصروفیات کو ترک کر کے انٹرویو کے لیے بیٹھ جائے۔اس سازش کے لیے ٹائمنگ نہایت اہم ہے۔ پھر ٹی وی چینل کا انتخاب بھی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مہم خالصتاً وزیر اعلیٰ کو ہدف بنا کر ڈیزائن کی گئی ہے۔ اس میں دو وزرائ اور سی ایم سیکرٹریٹ میں میڈیا سے متعلقہ افراد مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔ ایک وزیر جو کہ خود کو اطلاعات کا مالک سمجھتا ہے اور دوسرے کا اس نجی چینل سے قریبی تعلق ہے جہاں انٹرویو رکھا گیا تھا۔ اس کھیل میں ایک وزیر وہ بھی شامل ہے جاے وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ کہا تھا کہ اس کے محکمے کی کارکردگی ٹھیک نہیں اور کارکردگی کی

بنیاد پر محکمہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سارا کھیل اس گفتگو کے بعد ہی کھیلا گیا ہے۔جتنا ہم عثمان بزدار کو جانتے ہیں اس کے مطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سارے عمل میں وزیر اعلیٰ کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس سارے عمل سے ہی لاعلم ہیں۔شیخ رشید صاحب کرونا سے صحتیاب ہوئے ہیں اور انہوں نے ارشاد فرمایا ہے کہ انہیں بھی انجکشن این ڈی ایم اے کی مداخلت اور ذاتی کوششوں سے ملا ہے وہ یہ بھی فرما رہے تھے کہ جتنی وزارتیں انہوں نے چلائی ہیں پاکستان میں کسی وزیر نے نہیں چلائیں اور خیر سے آج ملک کا حال اسی وجہ سے یہ کیونکہ چودہ وزارتوں کا بیڑہ غرق تو شیخ صاحب خود کر گئے باقی کا حساب ہم بعد میں کریں گے لیکن ایک ذمہ دار وزیر کا میڈیا کے سامنے یہ کہنا کہ انہیں بھی انجکشن نہیں مل رہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ بھی مائنس ون کے کھیل کا حصہ بن رہے ہیں وزیراعظم عمران خان کا اس حوالے ضرور دیکھنا چاہیے۔ شیخ رشید اس غلط فہمی میں بھی ہیں کہ کچھ اہم حلقوں سے ان کے بہت اچھے تعلقات ہیں اور ان کی یہ غلط فہمی بھی جلد دور ہو جائے گی۔کمشنر لاہور کیلئے پانچ ناموں پر غور جاری ہے۔ ان پانچ افراد میں آصف بلال لودھی، کیپٹن(ر)محمدمحمود،عمران سکندر بلوچ، ذالفقار احمد گھمن اور ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کا نام بھی زیر غور ہے عمران سکندر بلوچ سب سے مضبوط امیدوار ہیں یہ ہم بعد میں بتائیں گے کہ وہ مضبوط کیوں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں