کورونا وائرس کی خطرناک لہر، سکولوں کو کب سے بند کیاجا سکتا ہے؟ وزیرتعلیم کے بیان نے والدین کو پریشان کردیا، بچوں کا سال ضائع ہونے کا خدشہ

کورونا وائرس کی خطرناک لہر، سکولوں کو کب سے بند کیاجا سکتا ہے؟ وزیرتعلیم کے بیان نے والدین کو پریشان کردیا، بچوں کا سال ضائع ہونے کا خدشہ

وبائی وزیر برائے تعلیم سعید غنی کا کورونا وائرس سے متعلق کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب اگر صورتحال خراب ہوئی تو اسکول بند کیے جاسکتے ہیں۔سعید غنی نے جیو نیوز کے مارننگ شو جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام سے متعلق پورے ملک میں

اقدامات کرنے ہوں گے۔ سعید غنی نے کہا ہے کہ اسکولوں کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، اسکول بند نہ کرنا ہماری ضد نہیں ہے، اگر صورت حال خراب ہوئی ہو تو اسکول بند کر سکتے ہیں۔اس سے قبل انہوں نےکہا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث پہلے ہی معمول سے زیادہ تعطیلات ہو چکی ہیں لہذا رواں برس موسم سرما کی تعطیلات نہیں ہوں گی۔ دوسری جانب ایسے میں کہ جب اندازہ نہیں کہ کووِڈ 19 ویکسین کی کیا لاگت ہوگی، وزیراعظم عمران خان نے 10 کروڑ ڈالر مختص کرتے ہوئے ویسکین کی فوری خریداری کے لیے پیشگی ادائیگی کی اجازت دے دی۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ معاشرے کے مختلف طبقات مثلاً بزرگ شہری، ماہرین صحت اور اس مہلک بیماری سے لڑنے والے لوگوں کو ویکسین کے لیے ترجیح دی جائے گی جو کہ رواں موسم سرما میں محدود تعداد میں دستیاب ہوگی۔تاہم اب تک کسی کمپنی نے ویکسین کی لاگت کا اعلان نہیں کیا ہے، مزید یہ کہ کسی ایک کمپنی کو بھی ویکسین فروخت کرنے کی منظوری نہیں دی گئی کیوں کہ کلینکل ٹرائل کا ڈیٹا محدود ہے۔حالانکہ بین الاقوامی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک نے اعلان کیا تھا کہ کلینکل ٹرائل کے تیسرے مرحلے میں ان کی ویکسین سے ان افراد میں بیماری روکنے کے لیے 90 فیصد کامیابی حاصل ہوئی جو اب تک وائرس سے محفوظ ہیں لیکن وہ اب بھی

اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔جب یہ عمل مکمل ہوجائے گا تو وہ اس ڈیٹا کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگز اتھارٹی اور یورپی یونین کی بھی اسی طرح کی ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس جمع کروائیں گے۔ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) کے وائس چانسلر اور نیشنل ویکسین کیمیٹی کے ڈاکٹر اسد حفیظ کا کہنا تھا کہ ‘اس کام میں مزید 4 ہفتے لگ سکتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘کمپنیوں کو فوری استعمال یا ویکسین کے استعمال کے لیے ٹرانزٹ اجازت مل جائے گی اور ایک سال بعد شاید انہیں ویکسین فروخت کرنے کے لیے مکمل منظوری ملے، تاہم عوام پر اس کا کوئی فرق نہیں پڑے گا چاہے ویکسین ٹرانزٹ یا مکمل اجازت کے تحت فروخت کی جائے’۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزارت صحت جلد از جلد ویکسین حاصل کرنے کے لیے آدھ درجن ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر حفیظ نے کہا کہ حکومت ویکسین کی خریداری کے عمل کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہے تاہم ویکسین حاصل ہونے میں مزید چند ماہ لگے گیں۔وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابھی ویکسین کی لاگت کا اندازہ لگانا ممکلن نہں کیوں کہ ویکسین کا کوئی آر این اے دنیا میں موجود نہیں اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کمرشل کمپنیاں ویکسین بنا رہی ہیں اور اس اعلان کے باوجود کہ ویکسین مناسب قیمت پر دستیاب ہوگی ہمیں اسے کی توقع نہیں کرنی چاہیئے کہ یہ معمولی قیمت پر ہمیں دستیاب ہوگی۔دوسری جانب یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پرروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ ویکسین کی خریداری کے لیے فنڈز مختص کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ ویکسین پاکستانی عوام کے لیے بھی مؤثر ثابت ہو کیوں کہ ایسا ممکن ہے کہ ویکسین ایک خطے کے لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو جبکہ دوسرے خطے کے افراد کے لیے اس کا اثر کم ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ ورکرز، ​​​​​​​ بزرگ شہریوں، ذیابیطس اور امراض قلب کے مریضوں کو ویکسین میں ترجیح دینی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں