عزیر بلوچ کو ایوارڈ سندھ حکومت یا پیپلز پارٹی نے نہیں بلکہ کس نے دیا تھا؟ حیرت کے جھٹکے کے لیے تیار ہو جائیں

کراچی (ویب ڈیسک) عزیر بلوچ کو ایوارڈ سندھ حکومت یا پیپلز پارٹی نے نہیں دیا، ایوارڈ ایک مقامی ادارے نے دیا۔ نجی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے سندھ کے وزیراطلاعات ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ جس ایوارڈ کی بات کی جا رہی ہے، عزیر بلوچ کو وہ ایوارڈ کسی مقامی ادارے نے دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس دن کی دعوتوں کی بات کی جا رہی ہے، ان میں میں بھی شریک تھا، میرے سامنے کسی کو ایوارڈ نہیں دیا گیا، ایوارڈ کسی مقامی ادارے نے عزیر بلوچ کو دیا تھا۔مزید بات کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کس طرح علی زیدی کسی ایک ایسی جے آئی ٹی رپورٹ پر یقین کر سکتے ہیں جو انہیں ایک نامعلوم شخص دے گیا، وفاقی وزیر اس شخص کو جانتے بھی نہیں ہیں اور اس کی پیش کردہ رپورٹ پر یقین کر بیٹھے ہیں۔خیال رہے کہ وفاقی وزیر علی زیدی نے دعویٰ کیا تھا کہ عزیر بلوچ کی جو جے آئی ٹی رپورٹ پیش کی گئی ہے وہ جعلی ہے، ان کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے پاس 2017 میں جے آئی ٹی رپورٹ آگئی تھی، تا ہم آج انہوں نےا یک سوشل میڈیا پر عزیر بلوچ کے ساتھی حبیب جان کی ویڈیو جاری کردی ہے جس کا وعدہ انہوں نے کل کیا تھا۔پیغام جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر مافیا ڈان آصف زرداری اور قادر پٹیل ایک بار پھر بے نقاب ہوگئے، سیاست اور جرم ساتھ ساتھ چلتے رہے، حبیب جان نے ان دونوں کوبے نقاب کیا جو کبھی ان کے ساتھ تھے۔ ویڈیو کی بات کی جائے تو حبیب جان نے ویڈیو میں پیپلز پارٹی اور عزیر بلوچ کے درمیان 2012 میں ہونے والے روابط کے بارے میں بتایا ہے، بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ہے کہ 2012 میں ہونے والے آپریشن کے بعد پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر عزیر بلوچ سے رابطہ کیا تھا۔ عزیر بلوچ کو 5 کروڑ روپے دیئے گئے جس کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی میں شامل ہو گیا، عزیر بلوچ کی دوبارہ شمولیت پر وزیرقائم علی شاہ ، فریال تالپور اور شرمیلا فاروقی بھی وہاں گئیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں