بریکنگ نیوز: کہانی اور ہی نکلی ، ملتان جلسے میں کل 10 ہزار بندے آئے ، لیکن ان میں سے بھی 4 ہزار افراد کس شخصیت نے بھجوائے تھے ؟ سینئر صحافی نے خاص خبر دے دی

بریکنگ نیوز: کہانی اور ہی نکلی ، ملتان جلسے میں کل 10 ہزار بندے آئے ، لیکن ان میں سے بھی 4 ہزار افراد کس شخصیت نے بھجوائے تھے ؟ سینئر صحافی نے خاص خبر دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) سیاسی حقائق سے ناآشنا شخص ہی اس گماں میں مبتلا ہوسکتا ہے کہ PDMکے جلسے اگر حاضرین کی تعداد کے اعتبار سے ’’تاریخ ساز‘‘بھی نظرآ ئیں تو عمران حکومت ان کے نتیجے میں فارغ ہوجائے گی۔نواز شریف کی تیسری حکومت کا تحریک انصاف اور اس کے کینیڈا سے آئے ’’کزن‘‘

نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کی معاونت سے 126روز تک اسلام آبادمیں جاری رہا دھرنا کچھ بگاڑ نہیں پایا تھا۔ آئندہ برس کے آغاز میں PDMکا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ یا دھرنا بھی ایسے ہی انجام سے دوچار ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن کو غیر مؤثر بنانے کے لئے مگر ایک سوچی سمجھی حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔عمران حکومت کے ہاں وہ مفقود نظر آرہی ہے۔سیاسی دائو پیچ پر توجہ دینے کے بجائے اپنی سہولت کے لئے اس حکومت کے وزرء اور مشیروں نے بلکہ فرض کررکھا ہے کہ ’’وہ‘‘ معاملہ سنبھال لیں گے۔خود کو تسلی دینے کے لئے نہایت سنجیدگی سے حکومتی ایجنسیوں کے ذریعے اکٹھے ہوئے ان اعدادوشمار پر آنکھ بند کرتے ہوئے اعتبارکرلیا گیا ہے کہ ملتان والے جلسے میں حاضرین کی تعداد ’’دس ہزار‘‘ سے زیادہ نہیں تھی۔اصرار یہ بھی ہورہا ہے کہ آصفہ بھٹو زرداری کی ملتان آمد کو ’’پُررونق‘‘ بنانے کے لئے چار ہزار کا ہجوم سندھ سے ملتان آیا تھا۔حکومتی ’’حساب کتاب‘‘ کو ذہن میں رکھیں تو منگل کے روز ہوئے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں PDMکا ملتان والا جلسہ پانچ منٹ سے زیادہ زیر بحث ہی نہیں آنا چاہیے تھا۔اس کا ’’تجزیہ‘‘ کرنے میں لیکن تقریباََ دو گھنٹے صرف ہوئے۔ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے میں اس ’’خبر‘‘ کی تصدیق کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتاکہ کابینہ کے اجلاس کے دوران ملتان سے آئے مخدوم شاہ محمود قریشی ا پنے آبائی شہر میں ہوئے جلسے کی بابت سب وزراء سے زیادہ چراغ پارہے۔انگریزی کا ایک محاورہ اصرار کرتا ہے کہ سیاست بالآخر ’’مقامی‘‘ ہی ہوا کرتی ہے۔برطانوی دور سے متعارف ہوئی سیاست نے ملتان کی مقامی سیاست کے حوالے سے قریشی اور گیلانی خاندان کو اس کا حتمی ’’اجارہ دار‘‘ بنایا تھا۔ 2013سے لیکن شاہ محمود نے یوسف رضا گیلانی کو بے اثربنارکھا تھا۔وہ جبلی طورپر جانتے ہیں کہ پیر والے جلسے نے ان کے ’’ اصل شریک‘‘ یعنی گیلانی خاندان کو Bounce Back ہونے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔پنجاب پولیس اور انتظامیہ کو وہ اس ’’’حماقت‘‘ کا ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔شاہ محمود قریشی کا جزبز ہونا ہمیں یہ پیغام دینے کے لئے کافی ہے کہ PDMکا ملتان والا جلسہ ’’ناکام‘‘ نہیں ہواہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں