حیران ہوں طارق عزیز مرحوم کتنے خوش قسمت تھے ، 2 بڑے واقعات کے باوجود ان کی عزت اور وقار پر کوئی حرف نہ آیا ؟ توفیق بٹ نے حیران کن باتیں بتا دیں

لاہور (ویب ڈیسک) اپنے گزشتہ کالم میں یہ عرض کررہا تھا، طارق عزیز کو اللہ نے بولنے کے لیے، بلکہ بہت اچھا بولنے کے لیے منتخب کیا تھا، اس شعبے میں اُنہیں بڑا کمال حاصل تھا، کوئی شخص کسی بھی شعبے میں کمالات دکھائے، میرے نزدیک یہ اِس بات کی علامت یا ثبوت ہوتا ہے

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے اُسے اُسی شعبے کے لیے منتخب کیا ہے، وہ جب کسی دوسرے شعبے میں ہاتھ مارتا ہے، یا یوں کہہ لیں وہ جب دوسرے کے چھابے میں ہاتھ مارتا ہے اُسے وہ کامیابیاں نہیں ملتیں جو قدرت کی جانب سے عطاکیے گئے ایک خاص شعبے میں اُسے ملتی ہیں، …. کل قائداعظم کے بعد پاکستان کی سب سے باوقار ہستی عبدالستار ایدھی مرحوم کی برسی پر طارق عزیز کی فلموں اور سیاست میں ناکامیوں کے تناظر میں، میں سوچ رہا تھا ایدھی صاحب کو اللہ نے سماجی کاموں کے لیے منتخب کیا تھا، وہ دوسروں کے چھابے میں ہاتھ مارنا شروع کردیتے ، سیاست یا کسی اور طرف نکل جاتے ممکن ہے اُن کی بطور ایک سماجی کارکن پوری دنیا میں جوعزت تھی، اُس میں کمی واقع ہوجاتی،…. طارق عزیز خوش قسمت ہیں سیاست اور فلموں میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کرنے کے باوجود بطورٹی وی کمپیئراُن کی عزت آبرو بحال رہی، اسی طرح دوست وزیراعظم عمران خان کو ”بازار سیاست“ خاص طورپر ”بازارِ حکومت“میں، مسلسل بے آبرو ہوتے ہوئے دیکھ کر میں یہ سوچتا ہوں اللہ نے اُنہیں کرکٹ کے لیے منتخب کیا تھا، اس شعبے میں نیک نیتی کے ساتھ اُنہوں نے ایسے ایسے کمالات دکھائے جن کی بنیاد پر بطور ایک کرکٹردنیا میں جو شہرت اُنہیں ملی شاید ہی اور کسی کو ملی ہوگی، کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اللہ نے اُنہیں دوسرے شعبے کے لیے چُن لیا، یہ ”سماجی خدمت“ کا شعبہ تھا، اُنہوں نے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال بنایا

جو پاکستان میں کینسر کے علاج کا پہلا ہسپتال تھا، اُس کے بعد اُنہوں نے عالمی معیار کی ایک نمل یونیورسٹی بنائی، ملک پر جب بھی سیلاب یا زلزلے کی صورت میں کوئی آفت یا مصیبت آئی اُنہوں نے خدمات پیش کیں، عبدالستار ایدھی کے بعدوہ پاکستان کی دوسری شخصیت تھے جن پر لوگ اندھا اعتماد کرتے تھے، کئی بار بغیر جھولی پھیلائے ہی بہت کچھ اُنہیں مل جایا کرتا تھا، وہ صرف سماجی خدمات تک محدود رہتے، ایدھی صاحب کی وفات کے بعد اُن کا خلا اِس انداز میں پُر کردیتے لوگوں کو احساس ہی نہ ہوتا ایدھی صاحب دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔ پر اُنہوں نے سیاست کا راستہ اپنا لیا، اُس کے بعد سارے راستے وہ بھول گئے، وہ شاید اپنی طرف سے یہ سمجھتے تھے سیاست اور حکومت میں آکر سماجی خدمات کا دائرہ وہ وسیع کرلیں گے، اب ہویہ رہا ہے تما شبینوں میں گھری ہوئی سیاست اُن کے سابقہ مقام یعنی عزت آبرو کو بھی خاک میں ملانے کی کوشش کررہی ہے، مقابلہ سخت ہے، ہماری دعائیں خان صاحب کے ساتھ ہیں، ہماری ہمدردیاں بھی اُن کے ساتھ ہیں، پر وہ خود کس کے ساتھ ہیں؟ ۔ یہ اندازہ لگانا ذرا مشکل ہورہا ہے، ….جہاں تک طارق عزیز کا تعلق ہے وہ ایک بڑے آدمی تھے، ایسے لوگوں کی وفات کے بعد عمومی اور روایتی طورپر ہم کہتے ہیں وہ کبھی نہیں مرتے۔ یہ پرانی باتیں ہیں جو پرانے لوگ کرتے تھے، اب ذرا سا آنکھ سے کوئی اوجھل ہو جائے، چاہے وہ کسی شعبے کا کتنا ہی بڑا آدمی یا عورت کیوں نہ ہو اُس کے مرنے کے بعد چنددن بعد تک ہی ہم اُسے یاد رکھتے ہیں،

یا زیادہ سے زیادہ ہوتا یہ ہے اُس کی برسی پر تھوڑا بہت ہم اُسے یاد کرلیتے ہیں، جبکہ میرے نزدیک کسی بڑے آدمی کو یاد رکھنے کا اصل طریقہ یہ ہے اُس کی خدمات بارے اگلی نسل کو بتایا جائے۔ اُس نسل کو جس کا حال یہ ہے کل فیملی کے ایک بزرگ بڑے دکھ سے بتارہے تھے اگلے روز محترمہ فاطمہ جناح کی برسی پر اپنے دس سالہ پوتے کو اُنہوں نے بتایا ”فاطمہ جناحؒ بہت بڑی لیڈر تھیں“، وہ آگے سے پوچھنے لگا ” دادا ابو سنی لیون سے بھی بڑی لیڈر تھیں؟“…. ہماری فلموں میں جس قسم کا ماحول بن گیا ہے، طارق عزیز مرحوم کی شخصیت اور مزاج اُس کے مطابق نہیں تھا، اور ہماری سیاست میں بھی جس قسم کا ماحول بن گیا ہے اُن کا مزاج اُس کے مطابق بھی نہیں تھا، چنانچہ ان دونوں شعبوں میں اُنہیں ویسی کامیابیاں نصیب نہ ہوئیں جیسی کامیابیاں اُنہیں بطور ٹی وی اینکر یا کمپیئر ہوئیں، اُنہوں نے سوائے عزت آبرو کے سب کچھ ”نیلام “ کردیا، اُن کی اولادنہیں تھی، اُن کا ہرموقع پر ”پاکستان زندہ باد “ کا نعرہ باآواز بلند لگانا پاکستان کے ساتھ اُن کی محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا، پر پاکستان کے ساتھ اُن کی عملی محبت کا اصل اندازہ ہمیں اُس وقت ہوا جب یہ راز کھلا اُنہوں وصیت کررکھی تھی اُن کی وفات کے بعد اُن کی ساری جائیداد پاکستان کے لیے وقف کردی جائے“ پاکستان میں شاید ایک ہی شخص ( طارق عزیز) تھا جس کے بارے میں ہم یہ دعویٰ کرسکتے ہیں گرپاکستان نے اُنہیں بہت کچھ دیا، اُنہوں نے بھی پاکستان کو کم نہیں دیا، ….

علم وادب، خصوصاً ”پاک صاف فن “ کی جو خدمت اُنہوں نے کی، اُس کی مثال نہیں ملتی، پاکستان کے ساتھ اُن کی والہانہ محبت اُن کی تحریروں اور تقریروں میں ہمیشہ جان ڈال دیا کرتی تھی، ورنہ ہمارے بے شمار فنکاروں، خصوصاً ٹی وی اینکرز کو مقبولیت حاصل کرنے کے لیے فحش جملوں اور فحش لطیفوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ طارق عزیز ایسے کسی سہارے کے محتاج نہ تھے،…. سیاست کا آغاز انہوں نے شاید بھٹوکے زمانے میں کیا تھا۔ پر قومی اسمبلی کے پہلی وآخری بار رکن وہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے بنے۔ 1999ءکی ”بارہویں شریف“ (بارہ اکتوبر) کو شریف برادران کی جدہ روانگی کے بعد وہ بھی بچی کھچی مسلم لیگ (مسلم لیگ قاف) میں ”بھرتی“ ہوگئے۔ شریف برادران کے دور میں اُن پر الزام لگا اُن کی ایماءپر اُنہوں نے بھی سپریم کورٹ پر پتھر برسائے تھے، اِس بناءپر سپریم کورٹ نے اُنہیں نااہل قرار دے دیا۔ پھر قاف لیگ نے خواتین کی مخصوص نشستوں پر اُن کی بیگم (حاجرہ طارق) کو ایم این اے بنا دیا، شریف برادران نے طارق عزیز کو قومی اسمبلی کا لاہور سے ٹکٹ تو جاری کردیا تھا، اُس وقت موجودہ وزیراعظم عمران خان کے مقابلے میں وہ کامیاب بھی ہوگئے تھے، خیال تھا اُنہیں وزیر ثقافت بنایا جائے گا پر وہ شاید شریف برادران کی خوشامد پسندی کے اُس معیار پر پورا نہ اُتر سکے جو اپنے لیے اُنہوں نے مقرر کررکھا تھا، وہ معیار یہ تھا اُن کی پارٹی کے کسی رہنما نے اُن کی توجہ حاصل کرنا ہوتی، یا اُن سے جائز ناجائز کام نکلوانا ہوتا وہ یہاں تک اُن سے کہہ دیتا ”قائد محترم تہانوں ملن توں بعد کسے حج عمرے دی لوڑ ای نئیں پیندی“ (قائد محترم آپ سے ملنے کے بعد کسی حج اور عمرے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی )….معافی چاہتا ہوں طارق عزیز جیسے بڑے آدمی کے ساتھ کچھ ”سیاسی بونوں“ کا ذکر کرنا پڑ گیا، اللہ اُنہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے !!(ش س م)

اپنا تبصرہ بھیجیں