وہ شخصیت جس نے قران مجید پر اعراب لگا کر عجمیوں کے لیے آسان بنا دیا ، اس عظیم کام کے باوجود وہ کیسی عبرتناک موت کا شکار ہوا ؟ ایسا واقعہ جس سے اکثر مسلمان ناواقف ہیں

وہ شخصیت جس نے قران مجید پر اعراب لگا کر عجمیوں کے لیے آسان بنا دیا ، اس عظیم کام کے باوجود وہ کیسی عبرتناک موت کا شکار ہوا ؟ ایسا واقعہ جس سے اکثر مسلمان ناواقف ہیں

نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔حجاج بن یوسف نے قرآن کے اعراب لگا کر عجمیوں کیلئے قرأت آسان بنا دی۔ یہ کارنامہ سنہری الفاظ میں لکھا جانے والا ہے مگرایسا بھی بہت کچھ جو اس نے کیا،سیاہ کاریوں کی داستاں ہے۔

صحابی رسول عبداللہ بن زبیر سمیت کئی برگزیدہ ہستیوں کی جان لی ۔ خانہ کعبہ اور مسجد نبویؐ پر سنگ باری کی گئی۔ قدرت نے اسے دیدہ عبرت بنا دیا۔ شدید ٹھنڈک کی بیماری نے لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے اتنا قریب بیٹھتا کہ جسم جل جاتا مگر سردی دور نہ ہوتی۔ جسم اندر سے جلتا رہتا۔ ایک بڑے حکیم نے دھاگے سے باندھ کر روئی حلق کے اندر کسی ٹیسٹ کیلئے ڈالی، نکالی تو کیڑے چمٹے ہوئے تھے۔ لاہور میں کا لامقصود کیس مشہور ہوا۔ مقصود کو سزا ہوگئی تھی۔ ایک بڑی شخصیت جیل آئی، اسکے سامنے بے گناہی کا واویلا کیا۔ اتفاق سے ایف آئی آر درج کرنیوالا تھانیدار بھی گرفتار ہو کر آگیا۔ اس نے مقصودپر خانہ پوری کیلئے ایف آئی آر درج کرنے کااعتراف کیا۔ معاملہ میڈیا میں آیا۔ وزیراعظم ملک معراج خالد اور صدر فاروق لغاری تھے، سزا معاف ہوگئی۔ گویا بے گناہ کو انصاف مل گیا مگر حالات نے ایساپلٹا کھایا، اس کی سزا بحال ، آخری پروانہ جاری ہوگیا۔تختہ دار پر لٹکنے سے چندگھنٹے قبل بھی اس کیس میں بے گناہ باور کرایاتاہم یہ کہہ کرسب کو ششدر کر دیا ، اس نے ایک اور فعل ضرور کیا تھا۔ راہ چلتی خاتون کی جان لی تھی جس کے غریب اور بے بس لواحقین نے کیس کیا نہ مارنے والے کو تلاش کرنے کی کوشش کی،یہ اُسی کیے کی سزا ہے۔ جرم چھپ سکتا ہے مگر اسکی سزا سے بچنا ممکن نہیں۔کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی ذریعے سے اس کا سراغ مل جاتا ہے ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں