خان صاحب : ایسے تو آپ سے کچھ نہیں ہونا ، میری مانو تو یہ فارمولا استعمال کرکے دیکھو ، بڑے سکون سے پانچ سال پورے کر جاؤ گے ۔۔۔۔ مجیب الرحمان شامی کا وزیر اعظم عمران خان کو مفت مگر قیمتی مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل بھی منڈلا رہے ہیں۔ دُنیا کے کئی ممالک سے ہمارے آسمانوں کا رخ کر چکے ہیں، اور کرتے جا رہے ہیں۔ یہ فصلوں کو چٹ کر کے قحط سالی میں مبتلا کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہنگامی بنیادوں پر حکومت کو اس

طرف بھی توجہ مسلسل مرکوز رکھنا ہو گی، اس میدان میں بھی سول اور ملٹری تعاون اچھے نتائج حاصل کر رہا ہے۔نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کورونا وائرس اور ٹڈی دل کی یلغار کا جس طرح سامنا کیا جا رہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی محاذ پر بھی اسی طرح پیش قدمی ہو۔ یہاں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کم ہوں۔ حکومت کی مخالف سیاسی جماعتوں میں رابطے بڑھ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے کراچی پہنچ کر طویل ملاقات کی ہے، اس کے بعد نعرہ لگایا گیا ہے کہ… پاکستان اور عمران خان ایک ساتھ نہیں چل سکتے… مسلم لیگ (ن) سے بھی نامہ و پیام جاری ہے۔ اگر یہی لیل و نہار رہے تو اپوزیشن کا بڑا اکٹھ ہو کر رہے گا۔ کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) بلانے اور مشترکہ لائحہ عمل بنانے کا جو عندیہ دیا جا رہا ہے وہ عمل کا جامہ پہن لے گا۔ حکومت مگر اپنی دھن میں مگن ہے، اور وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے حالات کو سنوارنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام سازی دکھائی نہیں دے رہی۔ پاکستانی معیشت کی حالت دگرگوں ہے۔ بے روزگاری اور مہنگائی کا جن بوتل سے نکل رہا ہے۔ ایسے میں اگر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان لڑائی تیز ہو گئی تو پھر حالات بے قابو بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا آئینی حق حاصل ہے، لیکن یاد رکھیے کہ اس نے سو

فیصد ووٹ حاصل نہیں کیے تھے۔ انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ تحریک انصاف نے ڈالے ہوئے ووٹوں کا 32 فیصد حاصل کیا تھا، یعنی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ووٹرز کا اعتماد حاصل کر سکی تھی۔ جو 114 نشستوں پر کامیابی دلا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کو 24 فیصد ووٹ ملے تھے، ایک کروڑ بیس لاکھ ووٹرز نے اس کے حق میں مہریں لگائی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے 13 فیصد ووٹ، 70 لاکھ ووٹرز کے حامل تھے۔ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) نے 5 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، اس کی پشت پر 25 لاکھ ووٹر تھے۔ اگر مذکورہ تین جماعتیں مل جائیں تو ان کے ووٹرز کی تعداد برسر اقتدار جماعت کے ووٹوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔ بعض حلقوں میں نتائج کی تبدیلی کے الزامات سے قطع نظر یہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کے مخالفین ابدی نیند سو گئے ہیں۔ اگر سیاست کو اسمبلی سے باہر نکلنے پر مجبور کیا جائے گا تو پھر ایوان کی عددی اکثریت بے معنی ہو جائے گی۔ تاریخ میں پاکستان کے اہلِ سیاست نے بار بار اس حقیقت کو نظر انداز کیا، اور اس کا نقصان اٹھایا ہے۔ یہ درست ہے کہ سڑکوں کی سیاست کا نتیجہ اپوزیشن کے حق میں بھی اچھا نہیں نکلا، اس کے ہاتھ بھی خالی ہو گئے ہیں، لیکن اسے یہ تسکین تو بہرحال حاصل ہو جاتی ہے کہ اس کے مخالف کا دیوالہ بھی پٹ گیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسے ذہین و فطین، چست و چالاک تاریخ و سیاست کے گہرے مطالعہ کا ذوق و شوق رکھنے والے شخص نے اپوزیشن پر زمین تنگ کی تھی تو انہیں صرف اقتدار ہی نہیں دُنیا چھوڑنا پڑی تھی۔ اس لیے زندہ رہنے کا آسان (اور شاید واحد) طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کے زندہ رہنے کا حق تسلیم کیجیے۔ جیو اور جینے دو۔ مرنے اور مارنے کا نتیجہ تو ہم بار بار دیکھ ہی چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں