ہر 5سیکنڈ بعد 1بچے کی پیدائش۔!! پاکستان کی کُل آبادی کتنی ہے؟ عالمی ادارے نے رپورٹ جاری کردی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 1950میں پونے چار کروڑ ، 2020میں 22کروڑ سے زیادہ ، چھ گنا اضافہ۔ نپاکستان کو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا ملک سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ حقیقت بدل چکی ہے ، پاکستان کی آبادی میں اضافہ اتنا تیز رفتار ہے کہ جنوبی ایشیا کی یہ ریاست اب دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے پاپولیشن ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق قیام پاکستان کے تین سال بعد 1950 کے وسط میں پاکستان کی مجموعی آبادی پونے چار کروڑ سے کچھ ہی زیادہ تھی۔تشویش کی بات یہ ہے کہ آبادی سے متعلقہ امور کے ماہرین کے مطابق یہ پاپولیشن بم آج بھی ٹک ٹک کر رہا ہے اور ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے ۔ ماہرین اس رکاوٹ کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ پاکستان میں سماجی ترقی، قومی وسائل اور اوسط فی کس آمدنی میں اضافہ اس رفتار سے نہیں ہو رہا، جس رفتار سے آبادی بڑھتی جا رہی ہے ۔اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلقہ امور کے شعبے کے گزشتہ برس اگست میں سال رواں کیلئے لگائے گئے اندازوں کے مطابق سال رواں کی دوسری ششماہی شروع ہونے تک پاکستان کی مجموعی آبادی یقینی طور پربا ئیس کروڑ 10 لاکھ کے قریب ہو جانا تھی۔ اس کا مطلب ہے جولائی 1950 سے لے کر جولائی 2020 تک ملکی آبادی میں تقریباًچھ گنا اضافہ ہوا۔ اس وقت دنیا میں صرف چار ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی پاکستان سے زیادہ ہے ۔ پہلے سے چوتھے نمبر تک کے یہ چار ممالک چین، بھارت، امریکا اور انڈونیشیا ہیں۔ پاکستان برازیل کی جگہ اب پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے جبکہ برازیل اب چھٹے نمبر پر ہے ۔غیر سرکاری بین الاقوامی ویب سائٹ کنٹری میٹرز ڈاٹ انفو کے ڈیٹا بیس کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس 60 لاکھ 50 ہزار زندہ بچے پیدا ہوئے ۔ یہ تعداد تقریباًساڑھے سولہ ہزار روزانہ یا تقریباًسات سو فی گھنٹہ بنتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ 2019 میں پاکستان میں اوسطاً ہر ایک منٹ میں 11 زندہ بچے پیدا ہوئے ، یعنی تقریباً ہر پانچ سیکنڈ بعد ملکی آبادی میں ایک شہری کا اضافہ ہو رہا ہے ۔ ڈاکٹر سیدہ نگہت گیلانی کا کہنا تھا میں روزانہ ایسی کئی حاملہ خواتین کا علاج کرتی ہوں جو کہتی ہیں کہ انہیں بچے پیدا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں