:ایک اور اچھی خبر

کراچی(ویب ڈیسک)پاک سر زمین پارٹی کے چیئر مین سید مصطفی کمال نے کہا کہ وزیراعلی ہر اختیار اور وسائل پر ڈکٹیٹر بن کر بیٹھے ہیں،پاکستان میں نا جمہوریت خالص ہے اور نا ڈکٹیٹر شپ۔جمہوریت کے نام پر سیاستدان بد ترین ڈکٹیٹر بن جاتے ہیں اور ڈکٹیٹر ڈنڈا چھوڑ کر جمہوریت چلانے کا شوقین بن جاتے ہیں۔

اسرائیل انڈیا مل کر بھی پاکستان کی فضائی کمپنی پی آئی اے کو وہ نقصان پہنچا سکتے تھے جو ایک وفاقی وزیر نے پہنچا دیا ہے، حد ہوگئی کہ آج ایتھوپیا کی ائیر لائن نے پاکستان کے پائلٹس کو جہاز اڑانے سے منع کردیا ہے۔اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق ڈسٹرکٹ کو پیسے اس لیے نہیں دیتے کیونکہ سارے پیسے تو وزیر اعلی کے پاس چلے جاتے ہیں، وزیراعلی ہر اختیار اور وسائل پر ڈکٹیٹر بن کر بیٹھے ہیں۔ ہم نے ہر مسئلے کا حل بتایا ہے کیونکہ ہم نے ہر مسئلہ حل کیا ہے، آج کراچی میں بد امنی ایک بار پھر سر اٹھانے لگی ہے۔ را نے ایم کیو ایم، بی ایل اے اور جیے سندھ کا کنسورشیم بنا لیا ہے کیونکہ اب را کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے کراچی کا لڑکا نہیں مل رہا، میں مان ہی نہیں سکتا کہ را پاکستان کے خلاف کچھ پلان کرئے اور الطاف حسین کو لوپ میں نہ لے۔ جو کونسلر نہیں بن سکتے تھے وہ وزیر بن بیٹھے ہیں۔ ارباب اختیار کو سنجیدگی سے یہ سوچنا ہوگا کہ اب وقت پاکستان کو بچانے کا ہے حکومتوں کو بچانے کا نہیں ہے۔ ہم اپنے خاندانوں اور بڑے عہدوں کو چھوڑ کر اس لیے نہیں آئے کہ صرف باتیں کریں، ایک وفاقی وزیر اٹھ کر کے آئی ٹی لہراتا ہے، وزیر موصوف کو پتہ ہی نہیں کہ کے آئی ٹی ہے کیا، جے آئی ٹی کے بعد کیس چلنا ہوتا ہے، وزیر صاحب باتیں کرنے سے پہلے کسی سے پوچھ ہی لیا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں