کچھ ہی دنوں بعد پٹرول کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ کر دیا گیا

ریاض(نیوز ڈیسک ) برادر عرب ملک سعودی عرب کو وکرونا نے ہلا کر رکھ دیا، ملکی معیشت لڑکھڑانے لگی، لوگوں کو سخت مالی مشکلات کا سامنا ، حکومت کو اپنے معاملات چلانے کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق سعودی پٹرولیم کے ادارے ارامکو کی جانب سے دس دنوں

کے بعد دوسری مرتبہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، ارامکو نے دس جولائی سے دس اگست نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں جاری کر دی ہیں، ارامکو کا فیصلہ آتے ہی مملکت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئیں ہیں۔ سعودی عرب میں قیمتیں بڑھنے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت ایک ریال انتیس ہللہ مقرر ہوگئی ہے۔ یوں پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 31 ہللہ کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس طرح پٹرول اکناوے کی قیمت میں اکتیس ہللہ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ پٹرول پچانوے کی نئی قیمت بھی بڑھا کر ایک ریال چوالیس ہللہ فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یکم جولائی کو اس کی قیمت ایک ریال اٹھارہ ہللہ تھی۔ اس لحاظ سے پٹرول پچانوے کی قیمت میں چھبیس پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ڈیزل کی نئی قیمت باون ہللہ فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت ستر ہللہ فی لٹر ہوگی۔ارامکو کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کے نئے نرخ ہفتہ آج گیارہ جولائی سے نافذ العمل ہوں گے-واضح رہے کہ یکم جولائی کو پٹرول اکناوے کے نرخوں میں آٹھ ہللہ فی لٹر جبکہ پٹرول پچانوےمیں دس ہللہ فی لٹر اضافہ کیا گیا تھا۔جس کے بعد اس کی قیمت اٹھانوے ہللہ فی لیٹر ہو گئی تھی جب کہ پٹرول پچانوے کی قیمت ایک ریال اٹھارہ ہللہ فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔تاہم اس بار یکم جولائی سے پندرہ فیصد ویلیو ایڈ ٹیکس عائد ہونے کے باعث رواں ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو بار اضافہ کیا گیا ہے۔سعودی مملکت میں پٹرول کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں تیل کے برآمدی نرخوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ کے مطابق ہی سعودی عرب میں بھی قیمتوں میں رد و بدل کی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں