کچھ لوگ اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ سے کیوں مر جاتے ہیں؟ مریض کے ساتھ فوری طور پر ایسا کیا کرنا چاہیئے کہ جان بچ سکے

کچھ لوگ اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ سے کیوں مر جاتے ہیں؟ مریض کے ساتھ فوری طور پر ایسا کیا کرنا چاہیئے کہ جان بچ سکے

ہارٹ اٹیک ایک جان لیوہ بیماری ہے، جو انسان کو زندگی میں یا تو صرف ایک مرتبہ ہوتی ہے یا پھر کئی بار لیکن جتنی زندگی خدا نے لکھی ہو وہ مدت ہر کوئی پوری کرتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگوں کو زندگی میں ایک مرتبہ ہی ہارٹ اٹیک ہو تو وہ انتقال کر جاتے ہیں جبکہ کچھ خوش قسمت ایسے بھی ہوتے ہیں جو متعدد مرتبہ ہارٹ اٹیک ہونے کے بعد بھی زندہ ہوتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟پرینیٹیو کارڈیالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ: ” جو لوگ جسمانی طور پر کمزور ہوتےہیں وہ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے پہلی مرتبہ میں ہی دم توڑ جاتے ہیں کیونکہ ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جبکہ دل میں جانے والے خون کے راستے آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دم بند ہو جاتے ہیں یا بلاکیج کا شکار ہوتے ہیں اور جن کا جسم کمزور ہوتا ہے وہ آکسیجن کی کمی برداشت نہیں کر پاتے اور فوری مر جاتے ہیں”۔البتہ وہ لوگ جو صحت مند اور مختلف قسم کی کثرت کرکے اپنے آپ کو فعال رکھتے ہیں، سستی کا شکار نہیں ہوتے وہی لوگ ہارٹ اٹیک کے بعد بھی زندہ بچ جاتے
ہیں۔ فوری طور پر کیا کریں؟ مریض کو فوری طور پر ٹھنڈی ہوا میں لے جائیں اور اس کے دل پر زور سے ہاتھ کر رکھ وزن دیں تاکہ خون کی جمی ہوئی رگیں وزن کی وجہ سے دوبارہ کھلنے لگیں۔ اور مریض کا سانس بھی بحال ہو جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں