میر شکیل الرحمٰن کی درخواستِ ضمانت خارج ,فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

میر شکیل الرحمٰن کی درخواستِ ضمانت خارج ,فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

میر شکیل الرحمان نے لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت منسوخی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

باغی ٹی وی ،میر شکیل الرحمان نے لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت منسوخی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے.درخواست میں موقف اپنایا گیا درخواست گزار کی عمر 63 سال ہے،12 مارچ کو چیئرمین نیب کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کی آز میں مجھے گرفتار کیا گیا،

گزشتہ ساٹھ سالوں سے جنگ گروپ کی آزادانہ صحافت سے سویلین اور فوجی حکومتیں ناخوش رہیں، جب چیئرمین نیب کی ایک وڈیو منظر عام پر آئی تو جیو نیوز نے احتساب کے عمل کی ساکھ کو بچانے کے لیے خبر نشر کی،

اس کے بعد جیو نیوز کو بالخصوص شاہزیب خانزادہ کے پروگرام کے سبب نیب کے ذریعے دھمکایا گیا کہ پیمرا پروگرام بند کر دے گا، جس کے بعد نیب کے کہنے پر پیمرا نے جیو نیوز کو نوٹسز جاری کر کے جرمانے عائد کرنا شروع کر دیئے،
جیو نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا کہ نیب کو ایک ریاستی ادارے کے طور برتاؤ نہ کیا جائے، حکومت وقت، پنجاب اور کے پی کی صوبائی حکومتیں اس معاملے پر ناراض ہو گئیں اور مکمل طور پر اشتہار بند کر دیئے، نیب اور حکومت کے گٹھ جوڑ کے باعث کاروباری اعتماد زمین بوس ہو گیا،

حکومت کو بعد میں احساس ہوا کہ نیب کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر شہریوں اور کاروباری شخصیات کو ہراساں کرنے سے نقصان ہو رہا ہے، تاجر برادری اور بیوروکریسی نے معیشت سے متعلق وزیراعظم اور آرمی چیف کو اپنے تحفظات سے متعلق آگاہ کیا، 28 دسمبر 2019 کو حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے تاجر برادری، شہریوں اور بیوروکریسی کے تحفظ فراہم کیا،

آرڈیننس کا جاری کرنا اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ نیب بےقابو ہو گیا ہے،نیب 8 اکتوبر 2019 کو جاری کردی ایس او پیز میں کہا تاجر برادری کے خلاف الزامات پر ان سے تحریری جواب مانگا جائے گا،جواب غیر تسلی بخش ہونے کے سبب سوالنامہ بھیجا جائے گا،

تحریری جواب اور سوالنامہ کا جواب غیر تسلی بخش ہونے پر علاقائی ڈی جی نیب کاروباری شخصیات کو طلب کر سکے گا، نیب نے 28 فروری کو مذکورہ ایس او پیز پر عمل درآمد کئے بغیر میر شکیل الرحمان کو نوٹس جاری کیا،

نیک نیتی اور نئب سے تعاون کرنے کے باوجود میر شکیل الرحمان کو گرفتار کر لیا، میر شکیل الرحمان نہ عوامی عہدہ رکھتے ہیں نا ہی ان پر کرپشن کا الزام ہے، نیب قانون کا اطلاق ان ہر نہیں ہوتا، 34 سالہ پرانے معاملے کے تناظر میں مبہم اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد ہر انکوائری نہیں ہو سکتی،

ایل ڈی اے کی شکایت کے بغیر دو افراد کے درمیان ہونے والے معاہدے کے خلاف نیب کاروائی نہیں کر سکتا،
شکایت کے تصدیقی مرحلے میں درخواست گزار کی گرفتاری بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، درخواست گزار کا مفرور ہونا ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتا،

درخواست گزار کا ذاتی حیثیت میں پیش ہونا فرار ہونے کے تاثر کو یکسر زائل کرتا ہے، درخوست میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے ضمانت منسوخی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،

درخواست گزار کی گرفتاری کیلئے جاری کردی وارنٹ گرفتاری غیر قانونی ہے جسے کالعدم قرار دیا جائے، درخواست گزار کا نیب کی حراست میں رکھنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے،درخواست میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں