جاگدے رہنا ، اینہاں تے نہ رہنا : اقتدار کی کشتی میں سوار چیمپئنز کشتی ڈوبنے سے پہلے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچاتے ہیں تو پھر عمران اینڈ کمپنی کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے ؟ کالم نگار آصف عفان نے پیشگوئی کردی

 نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔برس ہا برس بیت جائیں‘ حکمران بدل جائیں‘کتنی ہی رُتیں اور موسم بدل جائیں لیکن عوام کے نصیب بدلتے نظر نہیں آتے۔ روزِ اوّل سے لمحۂ موجود تک ان کے مسائل اور حالات جوں کے توں ہیں۔

نجانے یہ آسیب اس ملک و قوم کی قسمت میں کیوں ہے؟ انہیں عوام کا کوئی درد ہے اور نہ ہی ملک و قوم کے استحکام سے کوئی سروکار۔ حکومتِ وقت کو ”ٹف ٹائم‘‘ دینے کے لیے کبھی لانگ مارچ کیے گئے ‘ کبھی تحریک نجات چلائی گئی تو کبھی دھرنوں میں ایسی دھائی ڈالی گئی کہ کچھ نہ پوچھئے… یوں لگتا تھا کوئی نجات دہندہ اُتر آیا ہے اور قدرت نے عوام کی مشکل کشائی کا فیصلہ کر لیا ہے‘ اب جلد ہی عوام کے دن پھر جائیں گے۔ تبدیلی کا سونامی تو زورو شور سے آیا لیکن عوام کے دن پھرے اور نہ ہی ان کی قسمت بدلی۔ قانون کی حکمرانی قائم ہو سکی اور نہ ہی سماجی انصاف اور گورننس ۔ میرٹ کا جو حشر نشر اس قلیل عرصے میں ہوا اس کی ماضی میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ جس حکومت کے بارے میں انصاف کے ادارے بھی تحفظات کا شکارہوں‘ جن کے طرزِ حکمرانی پر آئے روز سوال اٹھائے جاتے ہوں تو کیسی گورننس کہاں کا میرٹ؟ عام آدمی کے مسائل اس کے قد سے کہیں بڑے ہو جائیں اور زندگی اجیرن ہو کر رہ جائے تو ایسے میں احساس جیسے پروگرام سراب دکھائی دیتے ہیں جن کے پیچھے بھاگتے بھاگتے عوام قبروں تک تو پہنچ سکتے ہیں‘ لیکن اپنے خوابوں کی تعبیر نہیں پا سکتے۔ حکومت کے طرزِ حکمرانی پر گزشتہ چند روز میں اٹھائے گئے چند سوالات اور تحفظات ملاحظہ فرمائیں:وفاق میں بیڈ گورننس کی انتہا اور پنجاب میں سسٹم کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔ پٹرول بحران میں مافیا کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا ہے۔

ایسا کمیشن بنایا جائے جو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے بھی سوالات کر سکے۔پاکستان ریلویز ڈیتھ ٹریک بن چکا ہے‘ پہلے ہی 77ہزار ملازمین ہیں شیخ رشید ایک لاکھ بھرتی کہاں کریں گے؟ کورونا سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر اٹھنے والے ناقابلِ یقین اخراجات‘ ادویات کی قیمتوں میں لگائی گئی آگ‘ پٹرول کی چھترول‘ آٹے کے گھاٹے اور چینی کی سبسڈی جیسے نجانے کتنے ایسے ایشوز پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ جس طرزِ حکمرانی پر اعلیٰ عدالتیں اتنے سوالات اٹھا دیں اور حکومتی حلقے ان کے جواب فراہم کرنے سے قاصر ہوں تو ایسے معاشرے کا اﷲ ہی حافظ ہے ۔حالات کی کروٹ کے ساتھ ساتھ انصاف سرکار کے اپنوں سمیت حلیفوں کے لب و لہجے اور بیانیے میں بھی تبدیلی نظر آرہی ہے۔ تحفظات خدشات میں بدل چکے ہیں اور اب خدشات شکووں سے ہوکر اختلافات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ چودھری برادران‘ شیخ رشید اور فواد چودھری تو کھل کر اپنی تحفظات اور اختلافات کا اظہار کر رہے ہیں۔ شیخ رشید ہوں یا چودھری برادران زیرک اور کوئے سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ سیاست کے اسرار و رموز سے نہ صرف بخوبی واقف ہیں بلکہ بدلتے حالات اور رجحانات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ بحرِ سیاست میں ہچکولے کھاتی حکومتی کشتی میں سبھی سوار اپنے اپنے حصے کا سوراخ کرنے کے باوجود ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ فلاں کا سوراخ میرے سوراخ سے بڑا ہے۔ اس کشتی پر سوار اکثر چیمپئنز کا ریکارڈ اور ماضی گواہ ہے کہ وہ بھنور میں کشتی کے پہنچنے تک اپنا کافی سامان ہلکا کر چکے ہوتے ہیں

اور ڈوبنے سے پہلے اپنی سمت اور منزل تبدیل کر کے دوسری کشتی میں سوار ہو جاتے ہیں‘ اپنے اس عمل کی ان کے پاس بے شمار توجیہات اور جواز بھی ہوتے ہیں۔ کالم ابھی یہیں تک پہنچا تھا کہ سامنے پڑے اخبارات کے ڈھیر میں ایک تصویر پر نظر اٹک کر ہی رہ گئی جس کا کیپشن کچھ یوں تھا ”تاجر رہنما ہارن بجاؤ حکمران جگاؤ تحریک کے آغاز پر باجے بجا رہے ہیں‘‘۔ تاجر رہنماؤں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے اچھوتا طریقہ اختیار کرتے ہوئے حکمرانوں کو جگانے کے لیے باجوں کا انتخاب کیا ہے۔ حالانکہ ”باجے‘‘ کے بجائے ”بین‘‘ بھی بجائی جا سکتی تھی‘ لیکن ممکن ہے کہ بوجوہ بین کا انتخاب نہ کیا گیا ہو۔ اب بیچارے تاجروں کو کون سمجھائے کہ جو حکومت پہلے ہی چین کی بانسری بجا رہی ہو اسے تاجروں کے باجے کیا سنائی دیں گے۔ تاجر برادری ہو یا بدحالی کے مارے عوام‘ حکومتی پالیسیوں کے خلاف برسرِ پیکار ڈاکٹرز ہوں یاتنخواہوں کے لیے بھٹکتی نرسیں‘ بے روزگاری اور تنگدستی کے ستائے خودکشی پہ مجبور لوگ ہوں یا ہسپتالوں میں ذلت و دھتکار برداشت کرنے والے بے کس و لاچار مریض‘ سبھی حکمرانوں کے وعدوں اور دعووں سے پناہ مانگتے پھر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں باجے بجانے سے حکمران ہرگز جاگنے والے نہیں۔ ایسے میں نجانے کیوں برہمن چانکیہ کی سنسکرت زبان میں لکھی کتاب ”ارتھ شاستر‘‘ بے اختیار یاد آگئی‘ جس کا انگریزی ترجمہ ”پولیٹکل شائن‘‘ کے نام سے کیا گیا۔ علوم سیاسیات کے موضوع پر لکھی گئی کتاب میں مصنف نے سماج کے

مختلف پہلوؤں کی کیا خوب عکاسی کی ہے۔ اس چشم کشا کتاب کے ایک باب میں دھرنوں کے حوالے سے چانکیہ نے لکھا ہے کہ اگر راجہ یا کوئی طاقتور اور بااثر آدمی تم سے ناراض ہو کر تمہاری بیوی‘ بیٹا‘ بیٹی اور گائے پر قبضہ کر لے تو اس کے در پر جاؤ‘ اس سے معافی مانگو‘ اس کے پیروں میں پڑ کر اس کی منت سماجت کرو اور کہو کہ میری بیوی واپس کر دو کیونکہ ا سی نے میری گھر گرہستی سنبھالنی ہے۔ میرا بیٹا بھی اس لیے واپس کر دو کہ اسی نے میرے بڑھاپے کا سہارا بننا ہے۔ گائے بھی مجھے اس لیے واپس چاہیے کہ اس سے میں دودھ حاصل کر کے اپنی روٹی روزی چلاؤں گا اور خود بھی دودھ پیوں گا۔ اگر وہ راجہ یا بااثر شخص پھر بھی نہ مانے تو علاقے کے معززین کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ تمہاری سفارش کریں اور تمہارا کنبہ اور مویشی واپس دلوائیں۔ سماجی اور اخلاقی دباؤ کے باوجود بھی اگر کامیابی نہ ہو تو ظالم کے گھر کے سامنے راستے میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاؤ جسے دھرنا مارنا کہتے ہیں تاکہ آنے جانے والے لوگ دیکھیں کہ فلاں بااثر شخص یا راجہ نے ضرور اس کے ساتھ کوئی ظلم اور زیادتی کی ہوگی اسی لیے اس کے گھر کے آگے دھرنا مارے بیٹھا ہے۔ دھرنا مارنے کے باوجود بھی کامیابی نہ ہو تو مصیبت زدہ اور مظلوم شخص مرن بھرت رکھتا ہے (جسے ہمارے ہاں تا مرگ بھوک ہڑتال کہا جاتا ہے)۔ مرن بھرت کسی بھی بااثر اور طاقتور شخص کو ظلم سے باز رکھنے کا آخری حربہ ہوا کرتا تھا۔ مرن بھرت رکھنے والا ظالم کے گھر کے سامنے دھرنا مار کر بیٹھ جاتا اور کھانا پینا چھوڑ دیتا۔ اکثر یہ حربہ اس لیے کامیاب رہتا کہ ظالم کو یہ خطرہ لاحق ہو جاتا کہ اگر یہ میرے گھر کے سامنے بھوک اور پیاس سے مرگیا تو اسے میرے گھر کے آگے سے کون اُٹھائے گا اور اس کی ”چتا‘‘ (آخری رسومات) جلانے کے اخراجات بھی مجھے ہی برداشت کرنا پڑیں گے اور اس کی موت سے گھر کا راستہ بھی گندا ہو جائے گا جسے دوبارہ ”پوتّر‘‘ کرنے کے لیے پنڈت بلانے پڑیں گے اور پنڈت بھی یہ کام بلا معاوضہ نہیں کریں گے۔ اَرتھی کو کندھا بیٹاہی دیتا ہے اور بیٹا پہلے ہی میرے قبضے میں ہے ایسے میں اَرتھی کو کندھا بھی خود دینا پڑے گا۔ دھرنے اور مرن بھرت کے خوف سے ظالم اپنے ظلم سے باز آجاتا اور مظلوم کے اہل خانہ اور مویشی واپس کر دیتا۔ حالاتِ حاضرہ پر مزید ماتم کرنے سے الفاظ کا ضیاع ہی ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں