لہو گرما دینے والے حقائق

 دوہٹ نے دور بین آنکھوں سے لگائی اور برف میں دھنسے ہوئے پتھر کی اوٹ سے سرنکال کر اپنے سامنے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ہر طرف برف کی چادر میں لپٹے ہوئے سربفلک پہاڑ دکھائی دے رہے تھے۔ سردی نقطہ انجماد سے 65ڈگر ی کم تھی ۔

نامور مضمون نگار اسلم لودھی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ٹائیگر ہلز پر بظاہر زندگی جامد دکھائی دے رہی تھی لیکن برف کی تہوںمیںچھپے ہوئے کنکریٹ کے مورچوں میں بہت سے آہن پوش موجود تھے۔دوہٹ اپنی عقابی نظروں سے انہی مورچوں میں زندگی کے آثار تلاش کررہا تھا۔ لالک جان …..او لالک جان ۔دوہٹ نے دور بین آنکھوں سے ہٹا کر اپنے عقب میں دیکھا تو ایک ساتھی کہہ رہا تھا۔ صوبیدار صاحب کہہ رہے ہیں اب تم آرام کرلو ۔لالک جان جو گزشتہ دو راتوں سے دشمن سے چومکھی لڑائی لڑرہا تھا خلاف توقع مسکرا کربولا تم نہیں جانتے میں ارادے کا کتنا پکا ہوں ۔میں نے صوبیدار کو کہہ دیا ہے کہ میں دشمن کا راستہ اس وقت تک دیکھتا رہوں گا جب تک مجھے یقین نہ ہوجائے کہ وہ ادھر آنے قابل نہیں رہا۔چاہے اس کے لیے مجھے کتنی ہی اور راتیں کیوں نہ جاگ کر گزارنی پڑیں ۔جیسے تیری مرضی ۔ یہ کہہ کرسپاہی واپس لوٹ گیا۔لالک جان نے اپنی مشین گن کو پتھر کیساتھ مضبوطی سے لگا دیا اور ایک بارپھر دشمن کی نقل و حرکت تلاش کرنے لگا۔ کشمیر کے اس حساس اور سیاچن کے پہلو میں واقع ٹائیگر ہلز کا یہ علاقہ پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے بہت اہم تھابلکہ بھارتی فوج انہی راستوں سے گزر کر پاکستان کی دفاعی لائن پر دھاوے بولتی رہی تھی۔ کارگل کی لڑائی شروع ہوتے ہی یہ پہاڑی سلسلے پاک فوج کے قبضے میں آچکے تھے۔صوبیدار سکندر کی کمان میں یہ گیارہ سرفروش دشمن کو بار بار پسپا ہونے پر مجبور کررہے تھے ۔ یہ یکم جولائی 1999ء کی رات تھی

دشمن نے ایک بار پھر پوری طاقت سے حملہ کردیاجسے پسپاکرنے کے بعد صوبیدار سکندر نے اپنے گیارہ ساتھیوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر صبح کا سورج طلوع ہونے سے پہلے بھارتی مورچوں کے درمیان بارودی سرنگیں بچھا دی جائیںتو دشمن پیش قدمی کے قابل نہیں رہے گا ۔لالک جان نے کہا سر میرے نانا نے میرا نام دوہٹ اسی لئے رکھاتھا کہ طوفان میں جنم لینے والا یہ بچہ طوفانوں سے ٹکرائے گا۔آپ نے جو ذمہ داری مجھے سونپی ہے ان شاء اللہ میں پوری کرکے ہی لوٹوں گا۔بارودی سرنگوں کا تھیلا اٹھائے اور اپنی مشین گن کو بوسہ دے کر لالک جان چھلاوے کی مانند برف پوش پہاڑوں میں گم ہوگیاپھر ٹائیگر ملز کے مقابل اس پہاڑی سلسلے کی جانب بڑھنے لگا جہاں دشمن نے مورچے سنبھال رکھے تھے ایک گھنٹے ہی میں اس نے بارودی سرنگوں کا ایسا جال بچھا دیا جو بعد میں دشمن کی تباہی کا باعث بنا۔ دو گھنٹے بعد ٹائیگر ہلز پر قبضے کے لیے جب دشمن آگے بڑھا تو نشیب سے لگاتاردھماکوںکی آوازیں آنا شروع ہوئیں جس سے دشمن کی توپیں اور بندوقیںخاموش ہوگئیں ۔6جولائی 1999ء کی ایک کہر آلود رات دشمن ایک ڈویژن فوج سے ٹائیگر ہلز پر قبضے کے لیے آگے بڑھا ۔دشمن کیمیکل ہتھیار بھی استعمال کررہا تھا اس معرکے میں صوبیدار سکندر اور سات ساتھی بھی شہید ہوگئے ۔اب لالک جان اور تین ساتھی ہی بھارتی فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے تھے۔7جولائی 1999ء کو بھی ٹائیگرہلز پر بارود کی بارش ہوتی رہی جس سے باقی تین ساتھی بھی شہید ہوگئے جبکہ لالک جان کا ایک بازو شدید زخمی حالت میں کاندھے سے لٹک رہا تھا اس نے دشمن کو اس وقت تک الجھائے رکھاجب تک کیپٹن عامر اپنے ساتھیوں سمیت ٹائیگر ہلز پر نہیں پہنچ گئے۔لالک جان نے کیپٹن عامر کو قائل کرکے بارود کا تھیلاچھاتی کے ساتھ باندھ لیا اور پہاڑی گھاٹیوں میں اس طرح اتر گئے جیسے وہ زخمی نہ ہوں۔آدھے گھنٹے بعددشمن کا وہ مورچہ دھماکوں سے گونج اٹھا۔ گولیوں کی ایک دھاڑ سنائی دی پھر فضا ساکت ہوگئی۔کیپٹن عامر نے عقاب اور ابابیل کے نام سے دو کمانڈوز کو لالک جان کی تلاش میں آگے بھیجا ۔ابابیل نے دشمن کو الجھائے رکھااور عقاب دشمن کے تباہ شدہ مورچے سے لالک جان کا چھلنی ہوا جسم اٹھالایا ۔ اس بہادری کے صلے میں لالک جان کو بعداز شہادت فوج کا سب سے بڑا اعزاز “نشان حیدر” دیا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں